بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری): ایامِ عزا کی رخصت کے دور میں مجالس کا سلسلہ زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ اسی تناظر میں محمودآباد کے وقف امام باڑہ علی حسن رمال مرحوم میں قدیم سالانہ مجلس منعقد ہوئی، جس میں کثیر تعداد میں مؤمنین و عزاداران نے شرکت کی۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حسن ظہیر نے فضائل و مصائبِ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے کونے کونے میں بلا تفریقِ مذہب و ملت، لوگ خلوصِ دل سے عزاداری کر کے آلِ رسول و شہداء کربلا کا پرسہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں پیش کرتے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقا کے لیے اپنے اور اپنے اہل خانہ و اصحاب کی قربانیاں دے کر تا قیامت پرچمِ اسلام کو سر بلند کر دیا۔
مولانا نے صراطِ مستقیم پر روشنی ڈالتے ہوئے زندگی گزارنے پر زور دیا اور اسلام، پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ اور آلِ محمد علیہم السلام کی سیرت کو مشعلِ راہ بنانے کی تلقین کی۔ ساتھ ہی اخلاق، حسن سلوک، محبت و رواداری کو اپنانے اور امنِ عالم و ملکی ترقی کے لیے دعا کی۔
بعد مجلس انجمن ہائے ماتمی نے نوحہ خوانی کی۔ مینیجنگ متولی بانو رضوی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی، ڈاکٹر ہارون رضوی اور عارف رضوی نے بھی لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔
خصوصی طور پر اس مجلس میں سینئر صحافی حسن ابراہیم، عرفان منصوری، جمیل حسن نقوی، ندیم عباس نقوی، کاشف حسن، آصف رضوی، عباس رضوی، اقبال حیدر خان، شہاب الدین خان و دیگر معززین نے شرکت کی۔
