مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری عمر ۶۳ سال رہی، چالیس سال کا عرصہ آپ نے نبوت سے پہلے گذارا، اس درمیان آپ ایک سچے اور امانت دار انسان کی حیثیت سے متعارف رہے، برائی کے بالکل قریب نہیں ہوئے، ملت ابراہیمی حنیفی پر زندگی گزارتے رہے، اس مدت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق ،معاملہ فہمی، اور حلم وبردباری کے متعد واقعات سامنے آئے، جن میں تین کا تذکرہ اس موقع پر کرنا مناسب ہوگا :
(۱) ایک واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب زبید یمن کا رہنے والا ایک تاجراپنے سامان تجارت کے ساتھ آیا اور ابو العاص نامی ایک شخص اس سے کچھ خریدا اور رقم ادا نہیں کی تو یمنی تاجر مارا مارا پھرتا تھا، اورفریاد کرتا کہ کوئی اس کی مدد کرے ۔لیکن کسی اس کی مدد نہیں کی ، بالآخر اس موقع پر فضل نام سے تین افراد : فضل بن حارث، فضل بن وداعہ اور فضل بن فضالہ تھے۔ عبد اللہ بن جدعان تمیمی کے گھر جمع ہوئے تھے جو قریش کے سردار تھے، اور اس میں رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے تھے، اس اجتماع کا مقصد یمنی تاجر کے حق دلانے کے ساتھ مکہ مکرمہ میں امن قائم کرنا اور مظلوموں کو انصاف دلانا تھا، حضور اکرم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے ایسے معاہدہ کے لئے بلایا جائے تو میں ضرور شریک ہوں گا۔( لقد شھدت فی دار عبد اللہ بن جدعان ،حلفا ماأحب أن لی بہ حمر النعم ، ولو أدعی بہ فی الإسلام لأجبت ، سیرۃ ابن ھشام ج۱؍ ۱۳۴) اس وقت آپ کی عمر ۲۰ سا ل تھی۔
(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن تدبیر ، معاملہ فہمی، اورسوجھ پوجھ کا اندازہ آپ کے تجارتی مزاج سے ہوتا ہے، بعثت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کا سفر کیا، ایک سفر اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ، جس میں آپ تجارت کے تجربات حاصل کرنے گئے تھے، اور اسی میں بحیرہ راہب سے آپ کی ملاقات ہوئی، دوسرا سفر حضرت خدیجہ کا سامان لے کر گئے تھے، اور نہایت امانت داری اور سچائی کے ساتھ تجارت کی۔اسی طرح آپ نے یمن اور بحرین کا سفر کیا، پہلا سفر ملک شام ۲۳۱۱ کلو میٹر، دوسرا سفر بھی ملک شام ۲۳۱۱ کلو میٹر، تیسرا سفر ملک یمن ایک ہزار کیلو میٹر، چوتھا سفر بھی ملک یمن کا، اور پانچواں بحرین کا ۱۳۴۴ کلو میٹر۔ان اسفار نے آپ کو آزمودہ کار بنا دیا تھا۔یہ نبوت سے پہلے اسفار تذکرہ ہے ۔
(۳)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاملہ فہمی کا تیسرا نمونہ کعبہ کی تعمیر نو سے متعلق ہے، جب کعبہ کی دیواریں سیلاب کی وجہ سے منہدم ہو گئی تھی تو قریش نے از سر نو اسے تعمیر کر نے کا ارادہ کیا، جب تعمیر کام مکمل ہو گیا تو حجر اسود کے اس کی جگہ رکھنے کا معاملہ پیش آیا، ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ اس کو یہ سعادت حاصل ہو، آخر کار یہ طے ہوا کہ کل صبح سب سے پہلے خانہ کعبہ میں جو داخل ہوگا، اور وہ جو فیصلہ کر دیگا اس کا اعتبار ہوگا، دوسرے دن سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہا کہ وہ محمد بن عبد اللہ کے فیصلے سے راضی ہیں، چنانچہ آپ نے ایک چادر منگوائی اور اپنے ہاتھ سے اس میں حجر اسود کو صحیح جگہ پرر کھا، یہ ہے حکمت و بصیرت اور سیاسی سمجھ بوجھ جس کے ذریعہ آپ نے امت کو ایک بڑے فتنے سے بچا لی، نبوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۳ ؍سال کا زمانہ گزارا، جس میں ۱۳ سال مکہ میں اور ۱۰ سال مدینہ میں، ۱۳ سالہ مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت وبصیرت کا مظاہرہ کیا، تین سال تک خفیہ نظام رکھا، دار ارقم بن ارقم کو اسلامی سینٹر بنایا، اس کے بارے میں محققین کا کہنا ہے کہ اس گھر سے باہر سے آنے والا تو اندر سے دیکھتا تھا، لیکن باہر والے کو اندر والا نہیں دکھتا تھا،اس میں رازداری اوراعلی درجہ کی حکمت عملی کا پتہ چلتا ہے، اس لئے اسلام قبول کرنے والوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جانے لگے، تو آپ نے مقابلہ آرائی سے گریز کرنے کا حکم دیا، اور صبرو احتساب کے الفاظ دھرائے، مکی دور میں ایک موقع آیا کہ آپ نے حبشہ ہجرت کا حکم دیااور سیاسی بصیرت کی ایک اعلی مثال یہ ہے کہ مکہ والوں نے جب آپ کی دعوت کو ٹھکرایا اور ہر طرح سے انکار کیا، تو آپ نے طائف کا سفر کیا، طائف والوں کی طرف سے جب اس دعوت کا استقبال نہیں ہوا تو ان کو دعاء دیتے ہوئے یثرب کے لوگوں کو دعوت کا موضوع بنایا۔
مکی دور دعوت کا تھا، مدنی دور اقتدار اور فتوحات کا دور تھا، مکی دور میں افراد تیار کیے جاتے تھے، مدنی دور میں اجتماعی نظام کی تشکیل کی گئی، مکی دور میں مسالہ تیار ہوا، مدنی دور میں عمارت کھڑی ہوئی۔
مدینہ یثرب کے نام سے آباد ایک قدیم شہر تھا، جہاں یہودیوں کی بڑی آبادی تھی، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد اس کو مدینہ کہا جانے لگا ، یثرب قوم عمالقہ کے پہلے آدمی کے نام پر رکھا گیا ،دوسری وجہ سرزنش اور سزا و مصیبت کے معنی میں اس کا نام یثرب رکھا گیا ،جہاں یہودیوں کے تین قبائل آباد تھے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔اس کے علاوہ یہاںکی آبادی کا دوسرا عنصر انصار کا تھا۔جن کا اصل وطن یمن تھا، اور وہ قحطان کی نسل سے تھے،یمن کے علاقے میں مشہور سیلاب آیا، اس کے بچے کچھ افراد یا یثرب آئے، یہ دو بھائی تھے ،جن میں اوس و خزرج ،یثرب میں انہوں نے بود وباش اختیار کی اور یہودیوں سے انہوں نے معاشرتی اور تمدنی طور پر معاہدہ کیا لیکن چونکہ یہودی مذہبی آدمی تھے ،اس وجہ سے ان پر چھائے رہے، انہوں نے یہودیوں سے سنا کہ ایک آخری نبی آئے گا، چنانچہ یہ بھی اس آخری نبی کے منتظر رہنے لگے ۔نبوت کے گیارہویں سال اوس و خزرج کے چھ افراد حج کے لئے آئے ،انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنی، متأثر ہوئے اور اسلام قبول کیا، جن میں اسعد بن زراہ قابل ذکر ہیں، پھر نبوت کے بارہویں سال 12 افراد آئے جس کے عمل کو ہم بیت عقبہ اولی کے نام سے جانتے ہیں، وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متأثر ہوئے اور اسلام قبول کیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت کے لیے مصعب بن عمر کو بھیجا ،جن کی وجہ سے سعد بن عبادہ، سعد بن معاذ بلکہ پورا بنو عبدالاشہل مسلمان ہو گیا۔پھر 75 آدمیوں کا قافلہ بیعت عقبہ ثانیہ میں مکہ ٓایا اور اسلام قبول کیا۔
ادھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اجازت دے دی کہ وہ مدینہ منورہ ہجرت کر سکتے ہیں، پھر ایک وقت آیا کہ ٓاپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اور آپ کے مدینہ ہجرت کے کرنے کے ساتھ ریاست مدینہ کی تشکیل عمل میں آئی، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا ،مدینے میں داخل ہو نے سے پہلے قبا میں قیام کیا اور وہاں ایک مسجد بنائی، قبا کی یہی وہ مسجد ہے ،جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد قباء میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے ،یہاں 14 روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام رہا، جہاں سے نکلنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد جمعہ میں پہلا جمعہ ادا کیا۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر میں آپ کا قیام ہوا ،مدینے میں عجیب و غریب خوشی کا ماحول تھا، چھوٹے چھوٹے بچیاں ’’طلع البدرعلینا ‘‘کا نغمہ گنگنا رہی تھی، وہاں پہنچنے کے بعد ابوایوب انصاری کے گھر کے سامنے ایک خالی میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کی اور یہیں سے کار دعوت کو آگے بڑھانا شروع کیا اور لوگوں کو اسلام سے قریب کرنا شروع کیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی ریاست کی تاسیس کے لیے ایک دستور مرتب کیا جسے پہلا تحریری دستور کہا جاتا ہے اور اسی کو میثاق کے مدینہ کا نام دیا جاتا ہے، میثاق کے معنی معاہدے کے ہوتے ہیں ،اس دستور میں 53 دفعات ہیں ،جن میں سے آ دھی د فعہ انصار و مہاجرین سے متعلق ہیں، اورآدھی دفعات مسلمانوں اور یہودیوں سے متعلق ہیں مہاجر و انصار سے متعلق چند دفعات ملاحظہ فرمائیں۔
(۱) تمام مسلمان اپنے آپ کو رضاکار سمجھیں گے ۔
(۲)مسلمان آپس میں اتحاد قائم رکھیں گے ۔
(۳)اختلاف کی صورت میں آپ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے ۔
(۴)تمام مسلمانوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔
(۵) فوجی خدمت سب کے لیے ضروری ہوگی
(۶) قریش مکہ کو پناہ نہیں دی جائے گی
یہودیوں سے متعلق کچھ دستور حسب ذیل ہیں:
(۱)مدینہ میں رہتے ہوئے یہودیوں کو مذہبی آزادی ہوگی۔
(۲) مدینے کا دفاع ہر یہودی کی ذمہ داری ہے۔
(۳) بیرونی حملے کے وقت مسلمانوں کے ساتھ متحد ہو کر مدینے کے دفاع میں حصہ لیں گے ۔
(۴)ہر قاتل سزا کا مستحق ہوگا۔
(۵) تمام تمدنی اور ثقافتی معاملات میں یہودیوں کو مسلمانوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے۔
(۶)مسلمانوں کے حملے کی صورت میں یہود مسلمانوں کا اور یہودیوں پر حملے کی صورت میں مسلمان ان کا ساتھ دیں گے
(۷)یہودقریش اور ان کے حلیف قبائل کی مدد نہیں کریں گے۔
(۸) یہود اور مسلمانوں کے اختلاف میں حضورﷺ کا فیصلہ قطعی ہوگا ۔
(۹)اسلامی ریاست کے سربراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے اور یہودی ان کی قیادت کو تسلیم کریں گے
(۱۰)یہودیوں کے اندر کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔
یہ مختصر ترین پہلا تحریری دستور ہے جو 622 ء میں مرتب ہوا ،اور اس کو دستور مدینہ کا نام دیا گیا، موجودہ دنیا میں امریکہ کے دستور کو مختصر ترین دستور مانا جاتا ہے، جو 7 ہزار الفاظ پر مشتمل ہے ،لیکن 1400 سال پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مختصر ترین دستور دیا وہ صاحب 703 الفاظ پر مشتمل ہے۔
اسلامی ریاست کی خصوصیات :
اسلام اللہ کا اتارا ہوا دین ہے ،وہ انسان کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرتا ہے، اس کی نگاہ میں سارے انسان برابر ہیں ،جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت اسلام کا اولین مقصد ہے ،اس لیے اسلام میں اور حکومت میں چولی دامن کا ساتھ ہے، اسلام مکمل شکل میں اسی وقت نافذ ہو سکتاہے ،جب حکومت کی اسلامی بنیادوں پر قائم ہوگی، یہی وجہ ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لانے کے بعد اسلامی ریاست کا عملی شکل میں قیام عمل میں آیا۔ذیل میں اسلامی ریاست کی چند خصوصیات ذکر کی جاتی ہیں :
(۱)امیر کی اطاعت :
اسلامی قوانین کا نفاذ چونکہ کسی سربراہ کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے ایک امیر کی اطاعت اسلامی ریاست میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے لیکن امیر کی اطاعت بھی انہی چیزوں میں جو اللہ کی معصیت سے متعلق نہ ہو اور جہاں کہیں اللہ کی معصیت ہو وہاں امیر کی اطاعت بالکل نہیں۔لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللہ ۔
(۲)عدل وانصاف کا قیام :
اسلامی ریاست کی دوسری خصوصیت عدل و انصاف کا قیام ہے، عدل و انصاف کے ذریعے سے معاشرہ امن و سکون کی زندگی گزارتا ہے اور ٹھنڈی سانس لیتا ہے ،جس معاشرے میں ظلم و زیادتی کا غلبہ ہوتا ہے وہ معاشرہ کبھی پنپ نہیں سکتا ،اس سلسلے میں بطور نمونہ کے وہ واقعہ ذکر کیا جا سکتا ہے جس میں اللہ کے حدود میں نرمی برتنے کی بات کہی گئی تھی ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : أتشفع فی حد من حدود اللہ ، لو أن فاطمۃ بنت محمد سرقت لقطعت یدھا ( کیا تم اللہ کے حدود میں سفارش کررہے ہو، اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا جاتا )( صحیح بخاری ومسلم )
(۳) اخوت و مساوات :
اسلامی ریاست میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہمی اخوت پر زور دیا ہے اور ایک کو دوسرے کا دینی ایمانی بھائی قرار دیا ،اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ ایک دوسرے کے غم میں شریک اور باہمی ایک دوسرے کے معاون تھے،پہلی اسلامی ریاست کی مکمل مدت 10 برس رہی اس درمیان ریاست کا حصول نفع پہنچانا رہا نہ کہ نفع حاصل کرنا۔
(۴) افراد سازی اور تدریجی مراحل :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افراد سازی پر زور دیا،اسلامی ریاست میںہر کام کے لئے الگ الگ افراد تھے ، ایک طرف اصحاب صفہ تھے ، جنہیںعلم و مطالعہ اور روایت حدیث میںرکھا گیا تھا ، دوسری طرف حسان بن ثابت اور شعراء صحابہ تھے ، شعر و شاعری کے ذریعہ اسلام کا دفاع کرتے تھے ،تیسری طرف خالد بن ولید ، ابو عبیدہ بن الجراح تھے، اسی طرح مدنی معاشرہ میں ہر کام کے لئے افراد رسول اللہ ﷺ نے تیار فرمائے ۔ ہر کام میں اسلامی ریاست میں تدریجی عمل کو ملحوظ رکھا جاتا تھا ،اور سزاؤں کے سلسلے میں تدریجی عمل اختیار کیا، یہی وجہ ہے کہ منافقین کے لیے غلطیوں کے باوجود اپ نے فورا سزا نہیں دی، بلکہ تساھل سے کام لیا ،پہلی اسلامی ریاست میں سارے امور اہل شوری کے ذریعے طے ہوتے تھے ،تعلیم کا مستقل نظام تھا ،کسی کی حق تلفی نہیں کی جاتی تھی ۔
یہ اور اس طرح کے بے شمار معاشرتی سیاسی اخلاقی دینی دعوتی اور تہذیبی پہلو ہیں، جن پر پہلی اسلامی ریاست نے توجہ دی، یہی وجہ ہے کہ وہ معاشرہ ایک نمونے کا معاشرہ بنا اور خلفائے راشدین کے اگر 30 سالہ عہد کو جو اسلامی ریاست کا تکمیلی عہد ہے جوڑ لیا جائے تو رہتی دنیا تک کے لیے پہلی اسلامی ریاست مکمل اور جامع نمونہ ثابت ہوگی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلی اسلامی ریاست کے عناصر ترکیبی اور بنیادی منشور یعنی میثاق مدینہ کو پیش نظر رکھا جائے ،تاکہ ایک صالح انسانی معاشرے کا وجود دنیا کے سامنے آ سکے۔ اسی کو قرآن کریم میں کہا ہے : لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ ، لمن کان یرجو اللہ والیوم الآخر ، و ذکر اللہ کثیرا ( الأحزاب : ۴۱)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے