زیر اہتمام جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو

تحریر: نسیم اختر

(متعلم جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو)

جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو ایک عظیم دین کا قلعہ ہے، جہاں کے ذمہ داران ہمہ وقت حساس و فعال رہتے ہیں، اور زمانے کے نبض شناس اور حالات پر اچھی نظر رکھتے ہیں۔ نسل نو کی تعلیم وتربیت میں زمانے کے اعتبار سے بہتری لانے، مناسب تبدیلی اور اصلاحات لانے کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔

شہر مئو میں ہر طرح کی سہولیات ہونے کے باوجود تعلیمِ نسواں کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں تھا۔ اس کمی کو سب سے پہلے فیض عام کے ذمہ داران نے شدت سے محسوس کیا، اور جامعہ اسلامیہ فیض عام نسواں کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا۔ اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلم لڑکیوں اور عورتوں کے لیے خاص طور پر ایک ڈیجیٹل لائبریری کا قیام عمل میں آیا، جس کا سہرا جامعہ کے ذمہ داران، بالخصوص ناظم اعلیٰ جناب محمد انس انصاری حفظہ اللہ کے سر جاتا ہے، جن کی انتھک کاوشوں اور جانفشانی کے نتیجے میں یہ عظیم کام پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

آج بروز ٣١ اگست ٢٠٢٥ مقام جامعہ اسلامیہ فیض عام نسواں میں مولانا احمد ڈیجیٹل لائبریری اینڈ سیلف اسٹڈی سینٹر کی افتتاحی تقریب جناب محمد سالم انصاری (سابق ایم پی و رکن فیض عام) کی صدارت میں بحسن و خوبی انجام پائی۔ مہمان خصوصی کے طور پر جامعہ سلفیہ بنارس کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد اللہ سعود سلفی حفظہ اللہ محفل کی زینت رہے۔ جامعہ کے دیگر ذمہ داران اور شہر مئو کے عمائدین و تعلیم یافتہ طبقے نے شرکت کر کے محفل کو تازگی بخشی۔

تقریب کا آغاز قاری شہنواز انجم حفظہ اللہ کی دلکش اور روح پرور تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد جامعہ کے ناظم اعلیٰ اور شیخ الجامعہ نے مہمان خصوصی کی خدمت میں گلدستہ اور شال پیش کیا۔ استقبالیہ کلمات کے لیے شیخ الجامعہ مولانا مظہر علی مدنی حفظہ اللہ کو مدعو کیا گیا۔ شیخ محترم نے صدرِ مجلس اور مہمان خصوصی کی خدمت میں ہدیۂ تشکر و امتنان پیش کیا اور جامعہ کی مختصر تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ سلفیہ، جامعہ اثریہ، جامعہ عالیہ، ریاض العلوم اور سراج العلوم کے قیام و تدریسی خدمات میں فیضی حضرات کا نمایاں کردار رہا ہے، اور یہ تاریخ کا ایک روشن و تابناک باب ہے جسے گردش ایام فراموش نہیں کرسکتی، ساتھ ہی مولانا مقتدی حسن ازہری، مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہما اللہ اور مولانا محفوظ الرحمن فیضی حفظہ اللہ کا ذکر خیر فرمایا۔

جامعہ کے سابق ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد احمد رحمہ اللہ نے ایک طویل عرصہ تک نظامت کا فریضہ انجام دیا۔ ان کے کارہائے نمایاں، خدماتِ جلیلہ اور بہترین کارکردگی کی وجہ سے وہ "ناظم صاحب” کے لقب سے مشہور ہوئے۔ جامعہ کی اسی حساسیت و فعالیت کی بنا پر آج بھی شہر مئو کے لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ انہی یادگار خدمات کو زندہ رکھنے اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس لائبریری کا نام مولانا احمد ڈیجیٹل لائبریری اینڈ سیلف اسٹڈی سینٹر رکھا گیا۔

تاثراتی کلمات کے لیے جناب جمال ارپن، ڈاکٹر محمد زکریا ازہری، سعید الرحمن، ڈاکٹر عبد المنان مدنی اور مولانا دل محمد سلفی حفظہم اللہ کو مدعو کیا گیا۔ سبھی نے اس عظیم خدمت پر ناظم اعلیٰ جامعہ اسلامیہ فیض عام جناب انس انصاری کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، اس عمل کو سراہا اور دیگر جامعات کے لیے قابلِ تقلید قرار دیا۔ ساتھ ہی تعلیمِ نسواں کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی اور مخلوط تعلیم کی قباحت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس طرح کے انتظامات کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا اور مطالعہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مطالعہ اور تحقیق امت مسلمہ کا طرۂ امتیاز ہے۔ علم و مطالعہ ایک زندہ قوم کی علامت ہے اور یہی قومی تعمیر و ترقی، شخصیت سازی اور کامیابی کا زینہ ہے۔

اس کے بعد مہمان خصوصی مولانا عبد اللہ سعود سلفی حفظہ اللہ کو بڑے ادب و احترام کے ساتھ مدعو کیا گیا۔ شیخ محترم نے اپنی طویل علمی و تدریسی تجربات کی روشنی میں مفید باتیں سامعین کے سامنے رکھیں، علم و تحقیق اور مطالعہ کی اہمیت پر زور دیا، ناظم جامعہ کا اس عظیم خدمت پر شکریہ ادا کیا اور اہلِ مئو کی دینی وابستگی اور کار خیر میں دلچسپی کی تعریف کی۔

اس کے بعد صدرِ مجلس جناب محمد سالم انصاری کا نہایت قیمتی خطاب ہوا۔ انہوں نے اہلِ مئو کو اس طرح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی اور قوم و ملت کی تعمیر و ترقی میں سرگرم عمل رہنے کی تلقین فرمائی تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو سکے۔

آخر میں شکریہ کلمات کے لیے مولانا مظہر علی مدنی حفظہ اللہ (شیخ الجامعہ) کو مدعو کیا گیا۔ مولانا نے صدرِ مجلس اور مہمان خصوصی کا صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی مصروفیات کے باوجود بزم میں شرکت فرمائی۔ اسی طرح ناظم اعلیٰ انس انصاری کو بھی مبارکباد پیش کی اور جامعہ کے دیگر ذمہ داران اور شہر کے عمائدین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس محفل کو کامیاب بنانے میں بہترین کردار ادا کیا۔

اس مبارک محفل کی نظامت مشہور مؤلف و مترجم، صاحبِ علم و تحقیق فضیلۃ الشیخ راشد حسن مبارکپوری (استاد جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو) نے بحسن و خوبی اپنے مخصوص لب و لہجہ میں انجام دی۔ موقع و محل کی مناسبت سے سامعین کو شعر و ادب سے بھی محظوظ کرتے رہے۔ محفل کو کامیاب بنانے میں نظامت کا کردار بہت اہم رہا، جسے شیخ محترم نے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ آخر میں دعائیہ کلمات پر مجلس کا اختتام ہوا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس مبارک عمل کو قبول فرمائے، ناظم اعلیٰ اور دیگر ذمہ داران جامعہ کے لیے ذخیرہ آخرت بنائے اور قوم و ملت کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے