جماعت اسلامی ہند سدھارتھ نگر نے محسن انسانیت مہم کے سلسلہ میں پریس کانفرنس کا کیا انعقاد۔
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: جماعت اسلامی ہند (مشرقی اترپردیش) 5 ستمبر سے 14 ستمبر تک "محسن انسانیت” نام سے منسوب ایک مہم کا انعقاد کیا ہے جس کا مقصد اللہ کے آخری نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا تعارف، ان کی تعلیمات اور پوری انسانیت کے لئے کی گئی ان کی سرگرمیوں اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
اسی سلسلے کی کڑی میں جماعت کی سدھارتھ نگر یونٹ نے 6 ستمبر بروز ہفتہ کھجوریا روڈ پر واقع فیض عام لائبریری میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داران و کارکنان کے ساتھ کثیر تعداد میں وابستگان اور میڈیا کے لوگ موجود رہے۔
پریس کانفرنس میں میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے لکھنؤ سے تشریف لائے خصوصی نمائندہ زبیر ملک فلاحی نے کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے اور انہوں نے پوری دنیا کے سامنے انسانیت کا وہ نمونہ پیش کیا جسے رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آپ نے لوگوں کو محبت کا ایسا پیغام دیا کہ لوگ آپ کے کردار سے متاثر ہوئے اور خود کو اسلام کے دامن میں آنے سے نہیں روک سکے۔
میڈیا کے متعدد سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا میں تلوار کے زور پر نہیں پھیلا بلکہ اسلام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور پیارے پیغام کے زور پر پھیلا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کو پوری دنیا میں عام کریں اور باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مسلمانوں میں رائج بعض برائیوں اور رسوم و رواج کو درکنار کرتے ہوئے صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت پر عمل کریں تب ہی ہم اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی سے بغض و کینہ نہیں رکھا اور نہ ہی کسی مذہب یا برادری کے لوگوں پر طنز و تمسخر کے تیر چلائے اور نہ ہی اسلام کی حرمت اور تقدس کو کبھی داغدار ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آج دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ ان کی اور ان کے ماننے والوں کی عظیم قربانیوں کی بدولت ہی آج پوری دنیا کے لوگ اسلام سے آشنا ہیں۔
اسلام اتنی آسانی سے ہم تک نہیں پہنچا، بلکہ ہمارے اسلاف نے اسلام کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگادی، لہٰذا ہم سب کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، آپ کی سیرت اور سنت پر پوری طرح عمل کرتے ہوئے ان کے مقصد کو عام کرنا چاہیے اور سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کے دلوں میں بغض و نفرت اور کینہ یا اپنے کسی بھی حرکات و سکنات سے اسلام کی حرمت اور تقدس کو مجروح کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ جس کی وجہ سے لوگ اسلام سے متاثر ہونے کے بجائے غلط فہمیوں کا شکار ہونے لگ جائیں اور مسلمانوں کو الٹا طعنہ دینے کا کام کرنے لگیں۔ بلکہ تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ اسلام کی صحیح اور مکمل تصویر دنیا کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تب ہی ہمیں اپنے مقاصد میں کامیابی مل سکتی ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو سکیں گے۔
پروگرام کی نظامت ناظم ضلع مولانا عبید اللہ فیضی نے بحسن وخوبی انجام دیا جبکہ زبیر ملک فلاحی کے علاوہ بانسی سے تشریف لائے مولانا محمد شریف فلاحی اور امیر مقامی مولانا عبدالاول ندوی نے بھی خطاب کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد ندوی کے حسن ترتیب سے پروگرام کافی کامیاب رہا۔
پروگرام میں بنیادی طور پر جمیل احمد فیضی، عبدالقیوم خان، محمد نسیم فلاحی، عتیق الرحمان رحمانی وغیرہ سمیت جماعت اسلامی کے کارکنان اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے لوگوں نے شرکت کی۔
