ظہیرآباد 12/ستمبر (محمد نصیرالدین ظہیر): ظہیرآباد کے صنعتی ادارے مقامی نوجوانوں کا کھلے عام استحصال کرتے ہوئے مزدور قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، اس کے باوجود حکومت کی جانب سے ان ہی فیکٹریوں میں ’’جاب میلہ” منعقد کرنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ یہ بات جاگو تلنگانہ کے بانی و عوامی قائد پی۔ رامولو نیتا نے اپنے صحافتی بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک فیکٹری نے 200 نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنیکے بھرتی کا اشتہار دیا، حالانکہ اسی فیکٹری میں گزشتہ برسوں کے دوران تقریباً 2000 مزدور اپنی جوانی اور صحت کھو کر سڑک پر لا کھڑے کیے گئے۔ نہ ہی انہیں مستقل ملازمت دی گئی اور نہ ہی واجبی معاوضہ، آج بھی وہاں پر مزدوروں کے قوانین اور کم از کم اُجرت کے اصولوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نیتاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ماضی میں ہم نے کنٹریکٹ ورکرز یونین بناکر مزدوروں کے لیے کینٹین، سیفٹی، کم از کم اُجرت اور بونس جیسی سہولتیں دلائیں، لیکن افسوس کہ آج کوئی سیاسی جماعت یا مزدور تنظیم ان بے سہارا مزدوروں کے حق میں آواز نہیں اُٹھا رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی آلودگی کی وجہ سے شہد کی مکھیاں، تتلیاں اور پرندے اس علاقہ سے غائب ہو رہے ہیں، نتیجہ یہ کہ مقامی زراعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مقامی عوامی نمائندوں اور حکام سے اپیل کی کہ وہ مزدوروں کے ساتھ ہونے والے ناانصافی پر خاموش نہ رہیں اور ظہیرآباد کے عوامی مفاد میں فوری کارروائی کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے