کوڑنگل میں سڑک کی توسیع کے نام پر چھلہ ایک عاشور خانہ اور قبرستان کی دیوار مسمار
صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ کا مذمتی بیان
حیدرآباد 22/ ستمبر(مشرقی آواز جدید): حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ حلقہ اسمبلی کوڑنگل ضلع وقارآباد میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب( R&B )اور مقامی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے سڑک کی توسیع کے نام پر محبوب سبحانی کا چھلہ ایک عاشور خانہ اور چار قبرستان کی دیواروں کو جے سی پی کی مدد سے منہدم کر دیا اور قبرستان میں موجود کئی قبروں کو مسمار کر دیا۔ پولیس نے یہ کاروائی کرنے سے قبل سارے علاقہ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے علاقہ کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا تھا۔تا کہ کوئی بھی اس انہدام کے مقام تک نہ جاسکے۔ ریاستی جمعیۃ علماء اس واقعہ کی پرزور مذمت کرتی ہے اور اس بات کو لے کر کوڑ نگل بلکہ پورے ضلع وقار آباد کے مسلمانوں میں شدید غم وغصہ پایا جارہا ہے اور اس پر مزید یہ کہ مقامی نمائندوں اور نو جوانوں کی جانب سے احتجاج کرنے پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ صدر محترم نے اسے غیر منصفانہ قرار دیا اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اس قسم کی کاروائی قابل مذمت ہے اور کہا کہ اقلیتوں کے ووٹوں سے برسراقتدار آنے والی حکومت کانگریس کا مسلمانوں کے مذہبی مقامات کے ساتھ اس قسم کا رویہ نامناسب ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ سابق حکومت نے بھی اس طرح کا رویہ اختیار کیا تھا۔ جس کی بنا پر مسلمانوں نے ان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔ موجودہ حکومت اس پر سنجیدگی سے اگر غور نہیں کرتی ہے تو ان کیلئے بھی اقتدار سے محرومی کوئی بعید نہیں ۔ ریاستی صدر محترم نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس انہدامی کاروائی میں جو عہد یداران ملوث ہے ان کو فوری معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کاروائی کو یقینی بنائیں ۔ ورنہ پوری ریاست میں احتجاج منظم کیا جائے گا۔ صدر محترم اور محترم حافظ پیر خلیق احمد صاحب جنرل سکریٹری جمعیتہ علماء تلنگانہ کی ہدایت پر مولا نا عبد اللہ اظہر صاحب صدر جمعیۃ علماء ضلع وقار آباد کی ایک ٹیم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اس رپورٹ کے بعد آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔۔۔
