مہراج گنج: معروف عالم دین مولانا شاہد علی ندوی نے کہا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت محض زبانی دعووں یا اظہار کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل تقاضا عمل اور اطاعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچی محبت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب انسان اپنی زندگی کو نبی اکرم ﷺ کی سنت اور تعلیمات کے مطابق ڈھالے۔
مولانا نے مزید کہا کہ آج کے دور میں لوگ عشقِ رسول ﷺ کے بڑے دعوے کرتے ہیں، نعت خوانی کی محافل اور جلسوں میں نعرے لگاتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں یہ محبت کم ہی دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے حدیث نبوی ﷺ بیان کرتے ہوئے کہا: "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔” (بخاری و مسلم)
یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ محبتِ رسول ﷺ دل کی گہرائی سے ہونی چاہیے اور یہ محبت تب ہی عملی شکل اختیار کرتی ہے جب ہم اپنی روزمرہ زندگی میں نبی ﷺ کے اصول اپنائیں۔
مولانا نے کہا کہ سچ بولنا، نماز قائم کرنا، والدین کی خدمت، یتیموں اور غریبوں کا سہارا دینا، معاشرتی انصاف اور رحم دلی کو فروغ دینا حقیقی عشقِ رسول ﷺ کے عملی ثبوت ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ امت مسلمہ کے بیشتر مسائل کی وجہ یہ ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کو صرف زبانی دعووں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی محبت کا چراغ تب ہی روشنی دے گا جب انسان دعووں سے آگے بڑھ کر اپنے کردار اور اعمال میں نبی کریم ﷺ کی سنت اختیار کرے۔
