بیدر۔12؍نومبر(محمدیوسف رحیم بیدری): تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، مگر جب تعلیمی اداروں میں انتظامی بے ترتیبی اور غیر منصفانہ فیصلے سر اُٹھا لیں، تو یہ بنیادیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ کلیان کرناٹک کے معروف سماجی کارکن جناب خواجہ فریدالدین انعامدار اور ان کے فرزند جناب سراج الدین انعامدار نے اسی احساسِ ذمے داری کے تحت آج بیدر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، رجسٹرار اور سنڈیکیٹ ممبران سے ملاقات کر کے ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
یہ یادداشت صرف چند نکات کا مجموعہ نہیں، بلکہ بیدر یونیورسٹی کے تعلیمی نظام، اساتذہ کے مسائل اور خطے کی تعلیمی پسماندگی پر ایک سوچنے پر مجبور کر دینے والی دستاویز ہے۔
انعامدار صاحبان نے یادداشت میں واضح کیا کہ کلیان کرناٹک ایک تعلیمی طور پر پسماندہ علاقہ ہے۔ یہاں اگر کسی شعبے میں طلبہ کی تعداد کم بھی ہو، تو اسے بند کرنا دانشمندی نہیں، بلکہ علاقے کے تعلیمی مستقبل سے ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ادارے بند کرنے سے تعلیم نہیں بڑھتی، بلکہ امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔”
یادداشت میں اساتذہ کی تقرری کے عمل پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ کئی امیدواروں کے سروس سرٹیفیکیٹس غیر تسلیم شدہ ہیں، جنہیں فوراً رد کرنے کی سفارش کی گئی۔
اسی طرح یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ کچھ امیدواروں کی پی ایچ ڈی ڈگریاں مشکوک جامعات سے حاصل کردہ ہیں۔ انعامدار صاحبان نے مطالبہ کیا کہ صرف UGC سے منظور شدہ یا حیدرآباد۔کرناٹک ریجن کی معتبر یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کو ہی تسلیم کیا جائے تاکہ علمی معیار برقرار رہے۔
ایک اور اہم پہلو میں فاصلاتی طرزِ تعلیم (Distance Mode) سے حاصل شدہ ایم۔اے ڈگریوں کی ساکھ پر سوال اٹھایا گیا۔ یادداشت میں کہا گیا کہ ان کورسز میں باقاعدہ تدریسی تربیت، کلاس روم مباحث اور تحقیقی مزاج کی کمی ہوتی ہے، اس لیے ایسے امیدواروں کو تقرری میں ترجیح دینا علمی معیار سے سمجھوتہ ہوگا۔
انعامدار صاحبان نے تجویز دی کہ پہلے ریگولر موڈ کے امیدواروں کو موقع دیا جائے، اور اگر ایسے امیدوار دستیاب نہ ہوں تو ہی دیگر کو موقع فراہم کیا جائے۔
یادداشت کا سب سے انسانی اور جذباتی پہلو وہ سفارش ہے جس میں کہا گیا کہ دس سال یا اس سے زیادہ عرصہ سے خدمت انجام دینے والے گیسٹ لیکچررز کو دوبارہ انٹرویو سے نہ گزارا جائے۔ یہ نہ صرف آئین ہند کے آرٹیکل 371(J) کی روح کے مطابق ہے، بلکہ انصاف اور انسانی اقدار کا تقاضا بھی یہی ہے۔
انعامدار صاحبان کے اس اقدام کو بیدر کے تعلیمی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ “یہ یادداشت اگر عمل میں لائی گئی تو بیدر یونیورسٹی میں انصاف، شفافیت اور میرٹ کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔”
آخر میں سوال یہ ہے کہ: کیا یونیورسٹی انتظامیہ اس یادداشت کو محض ایک رسمی کاغذ سمجھ کر نظرانداز کرے گی، یا اسے اصلاح کا موقع سمجھے گی؟
اگر سنجیدگی سے غور کیا گیا، تو یہی یادداشت کلیان کرناٹک کی تعلیمی تقدیر بدلنے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے