خلفائے راشدین اور اہل بیت کے نقش قدم پر چل کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے: مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی
امن و شانتی، قومی یک جہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام کے لئے خلفائے راشدین رول ماڈل: مولانا شہاب الدین مدنی
کتابوں کا اجراء، خطباء و مقالہ نگاران کی تکریم اور ملک و ملت سے متعلق قرارداد و تجاویز
لکھنؤ :14/ نومبر 2025ء: ”خلفائے راشدین امت و انسانیت کے لئے آفتاب و ماہتاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مبارک و پاک باز ہستیوں نے رسول اکرم ﷺ کے زیرسایہ تربیت پائی۔ وہ دین وشریعت کے اولین حاملین، انسانیت کے سب سے بڑے محافظ اور اس کے حقوق کے امین تھے۔ ان کی رعایا پروی کسی واقعہ یا حادثہ کی مرہون منت نہیں بلکہ رسول اکرم ﷺ کے اخذ کردہ تعلیمات و ہدایات پر مبنی تھی۔ وہ رسولﷺ کے اسوہ پر چل کر کمزوروں، یتیموں اور بیواؤں کے خبر گیر و سرپرست بن گئے تھے۔ خلفائے راشدین کا مبارک عہد ہر دور میں امت و انسانیت کے لئے نجات و فلاح کا واحد راستہ ہے۔“ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اپنے زیر صدارت لکھنؤ میں منعقد ”خلفائے راشدین اور تحفظ انسانیت کانفرنس“ کے افتتاحی اجلاس میں موجود شرکاء کی کثیر تعداد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا نے مزید کہا کہ امن و شانتی اور اتحاد و اتفاق سب سے بڑی نعمت ہے اور دہشت گردی عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور ہے جس کی روک تھام ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اس کا مقابلہ خلفائے راشدین اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چل کر کیا جاسکتا ہے۔
مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی صاحب نے بعد نماز مغرب اختتامی اجلاس میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لکھنؤ تہذیب و ثقافت کا گہوارہ رہا ہے۔ اہل حدیثوں کا طرہ امتیاز ہے کہ وہ اپنے اعمال و کردار اور جذبات کو کتاب و سنت کے ساتھ مربوط کرتے ہیں اوروہ ملک و ملت اور انسانیت کی خدمت، آپسی میل جول، ملک کے آئین کی پابندی میں یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی کے امیر حافظ عتیق الرحمن طیبی صاحب، ناظم اعلیٰ و کنوینر کانفرنس مولانا شہاب الدین مدنی صاحب، صدر استقبالیہ مولانا محمد ابراہیم مدنی صاحب، کنوینر سمینار مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی صاحب و دیگر ذمہ داران و منسوبین جمعیت کو مبارک باد پیش کی۔
کانفرنس کے کنوینر اور ناظم اعلیٰ صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی مولانا شہاب الدین مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تیس سالہ خلافتِ راشدہ تاریخِ انسانیت کا وہ درخشاں باب اور عدل، مساوات، انسانی وقار اور خدمتِ رعایا کا بے مثال نمونہ ہے۔
مولانا شہاب الدین مدنی نے مزید کہا کہ خلافتِ راشدہ صرف مسلمانوں کی ہی خیرخواہ نہیں تھی بلکہ غیر مسلم رعایا کے حقوق کی بھی بہترین محافظ تھی۔ اس لیے یہود و نصاریٰ سمیت دیگر اقوام جنہوں نے اس نظام کا مطالعہ کیا، وہ بھی اس کے عدل و انصاف اور انسانیت نوازی کو خراجِ تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے بھی آزاد ہندوستان کے قیام میں انہی اصولِ عدل و مساوات کو بنیاد بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
صدر مجلس استقبالیہ مولانا محمد ابراہیم مدنی، نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں تمام علماء، خطباء، مقالہ نگاران، ذمہ داران جمعیت و جماعت، دانشوران ملک و ملت اور عوام و خواص اور خواتین حضرات کا تہہ دل سے استقبال کیا اور کہا کہ خلفائے راشدین کی سیرت میں ہر طرح کے اختلافات اور سماجی جھگڑوں کا بہترین حل موجود ہے۔ اگر ہم حقیقی امن، سماجی ہم آہنگی اور مستقل شانتی چاہتے ہیں تو ہمیں ان عظیم شخصیات کے اسوہ ملکی آئین کی روشنی میں اپنانا ہوگا۔
صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی کے امیر حافظ عتیق الرحمن طیبی صاحب نے اپنے تذکیری خطاب میں لکھنؤ میں تاریخ اہل حدیث کے مدو جزر پر روشنی ڈالتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے، اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہنے، سماجی برائیوں کے خاتمہ کے لئے کوششیں کرنے اورصحابہ کرام، خلفائے راشدین اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے اسوہ اور ملکی آئین کی روشنی میں ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
واضح رہے یہ عظیم الشان کانفرنس کل چھ نشستوں پر مشتمل تھی۔ افتتاحی اجلاس صبح دس بجے زیر صدارت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی و زیر نظامت مولانا شہاب الدین مدنی منعقد ہوا۔اسی طرح دوسری نشست زیر صدارت ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی صاحب، زیر نظامت مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی صاحب، تیسری نشست زیر صدارت مولانا شمیم احمد ندوی، زیر نظامت ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی، چوتھی نشست زیر صدارت مولانا شہاب الدین مدنی اور زیر نظامت مولانا محمد ابراہیم مدنی صاحب منعقد ہوئی، جب کہ اختتامی اجلاس بعد نماز مغرب زیر صدارت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی صاحب، زیر نظامت مولانا شہاب الدین مدنی صاحب منعقد ہوا۔
کانفرنس میں مختلف ریاستوں اور بالخصوص اترپردیش کے ممتاز علماء، دعاۃ، محققین، مقالہ نگاران اور دانشوران نے شرکت کی۔ ان میں الحاج وکیل پرویز صاحب ناظم مالیات مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، مولانا ظفرالحسن مدنی، قاری نجم الحسن فیضی، مولانا مقصود الحسن فیضی، مولانا عبدالوہاب حجازی، مولانا سید معراج ربانی، مولانا عبدالحسیب عمری، مولانا جرجیس سراجی، مولانا سلیم مدنی، مولانا عبدالحمید فیضی، ڈاکٹر عبدالعزیز مبارک، مولانا عبدالرشید مدنی، ڈاکٹر عتیق الرحمن عتیق اثر ندوی، مولانا محمد احمد عرف ضامن علی، مولانا عبدالوحید سلفی، مولانا عبدالرؤوف خان ندوی، حافظ کلیم اللہ سلفی، مولانا سعود اختر سلفی، مولانا کلیم اللہ سلفی، مولانا شفیع اللہ مدنی، مولانا فرید الدین فیضی، ڈاکٹر شاہد مبین ندوی، مولانا جمشید عالم سلفی، مولانا عبدالستار سراجی، مولانا عبدالرشید سلفی، مولانا عبدالمنان مفتاحی، مولانا زاہد آزاد جھنڈانگری، مولانا محمد اظہر مدنی، مولانا سعیدالرحمن نورالعین سنابلی، ڈاکٹر عطاء اللہ سنابلی، مولانا دل محمد سلفی، مولانا عرفان احمد سلفی، مولانا اعجاز سنابلی، مولانا افضل سنابلی، مولانا افروز عالم سلفی، مولانا خورشید احمد سلفی، مولانا محمد مقتدیٰ عمری، ڈاکٹر عبدالغنی القوفی، مولانا شہاب الدین فیضی، مولانا زبیر احمد مدنی، مولانا افضل احسان اثری، مولانا عبدالمبین سلفی، مولانا محمد ہاشم سلفی، مولانا حامد عبدالمنان سلفی، مولانا عبدالخبیر سلفی، مولانا اعجاز ریاضی، مولانا ذکاء اللہ سلفی، مولانا اشفاق سجاد سلفی، مولانا عبدالحکیم فیضی، مولانا عبدالمعبود عبدالحکیم مدنی، مولانا خلیل الرحمن سنابلی، مولانا سرفراز فیضی، مولانا ثناء اللہ سلفی، حافظ عبدالسمیع مدنی سمیت دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔
کانفرنس کے اختتام پر متعدد علمائے کرام اور دعوتی و علمی خدمات انجام دینے والی شخصیات کو تعلیمی، تصنیفی اور دعوتی خدمات کے اعتراف میں توصیفی اسناد اور شال پیش کیے گئے۔ آخر میں قرارداد و تجاویز پیش ہوئیں جس میں صحابہ کرام کی عظمت، خلفائے راشدین کی معنویت اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی محبت کو واجب قرار دیتے ہوئے ان کے اسوہ کو ملکی قوانین کی روشنی میں انسانیت کی خدمت و تحفظ اور ملکی تعمیر و ترقی، سماجی برائیوں کے خاتمے کے لئے بروئے کار لانے پر زور دیا گیا اور حالیہ دنوں دہلی کے لال قلعہ کے نزدیک کار بم دھماکہ کی پرزور اور سخت الفاظ میں مذمت کی گئی، جسے ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے پڑھ کر سنایا اور صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی کے امیر حافظ عتیق الرحمن طیبی کی دعاؤں اور کلمات تشکر پر ساڑھے دس بجے شب اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔
مذکورہ اطلاع صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں دی گئی ہے۔
