محبوب العلماء و الصلحاء آسمان تصوف کا نیر تاباں حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ جوارِ رحمت میں
🖋️ مقیت احمد قاسمی گونڈوی
یہ کیسا کوه غم یارب یکا یک اپنے سر ٹوٹا
غم واندوہ سے ہر صاحب قلب و نظر ٹوٹا
یہ کس کے رنج فرقت سے اچانک آنکھ بھر آئی
کسی کے روٹھ کر جانے کی یہ کیسی خبر آئی
روزانہ کی طرح آج دن میں گیارہ بجے درسی امور میں مصروف تھا کہ موبائل کے ذریعے یہ خبر موصول ہوئی کہ عالم اسلام کی مشہور و معروف شخصیت، بقیة السلف، نمونہ اسلاف، پیر طریقت حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ دارِ فانی سے دارِ بقاء کی طرف کوچ کرگئے، اس روح فرسا خبر سے تھوڑی دیر کے لئے سکتے میں پڑ گیا، عجیب و غریب کیفیت طاری ہوگئی، لب پر لرزہ طاری تھا، مضمحل قلب کے ساتھ زبان سے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، اور اس اندوہناک خبر سے طلباء کو بھی آگاہ کیا۔۔۔۔۔۔۔
کیا خبر تھی یہ اچانک حادثہ ہو جائیگا
اِس زمیں کی گود میں اِک آسماں سوجائیگا
عالم اسلام کے لئے یہ ایسا صدمہ ہے جس کی کسک مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی۔
آپ کی ذات اسلامیانِ عالم کے لئے بہت بڑی ڈھارس تھی، اور آپ کا وجود مسعود زمانہ کی گھٹا ٹوپ اندھیریوں میں منارہ نور کی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ کی مجلسیں فیضان حکمت سے لبریز ہوتیں، اور آپ کی زبانِ مبارک سے نکلنے والے الفاظ دعوت الی الخیر کا حقیقی مصداق ہوتے، آپ کی صحبت طیبہ سے ہدایت کے چشمے پھوٹتے، اور اپنی کوتاہیوں پر جمے ہوئے دبیز پردے خود بخو د ہٹتے چلے جاتے تھے۔ آپ کے پرنور چہرے کو دیکھ کر خدا یاد آتا، اور آخرت کی فکر بیدار ہو جاتی ۔ حضرت پیر صاحب نے اُمت کی دینی اصلاح کی فکر گویا کہ اپنے اوپر اوڑھ لی تھی، آپ کی کوئی گفتگو سفر ہو یا حضر مجمع ہو یا تنہائی اصلاحی جذبہ سے خالی نہ ہوتی تھی، عوام ہوں یا خواص سبھی آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے اور ہرطبقہ اپنے اپنے ظرف کے اعتبار سے آپ سے اکتساب فیض کرتا تھا۔۔۔۔۔۔
اڑائےکچھ ورق لالہ نےکچھ نرگس نے کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں تیری
حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی سے ملاقات کا شرف
11/اپریل 2011 عیسوی میں جب آپ دیوبند تشریف لائے تھے ، اُس وقت میں عربی پنجم میں پڑھ رہا تھا ، آپ کے ایک ہفتہ دیوبند میں قیام کے دوران مختلف موقعوں پر آپ سے تین بار ملاقات کا مجھے شرف حاصل ہوا تھا، اور تین بڑے اجتماعات (مسجد رشید، اعظمی منزل ، دارالعلوم وقف) میں قریب بیٹھ کر آپ کے نورانی و عرفانی بیانات سماعت کرنے کا موقع ملا تھا۔
آپ کو اللہ عزوجل کی طرف سے بہت ہی مختصر مدت میں اس قدر مقبولیت و محبوبیت لوگوں میں مل گئی تھی کہ بقول مولانا ندیم الواجدی صاحب رحمۃ اللہ علیہ (مالک دارالکتاب دیوبند ، مدفون شکاگو امریکہ)
کہ جب آپ کے خلیفہ حضرت مولانا صلاح الدین صاحب سیفی اپنے پیر ومرشد پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی کی ایک کتاب شائع کرانے میرے پاس لائے تھے، تو میں نے مصنف کا نام نامانوس دیکھ کر واپس کر دیا تھا، مگر آج حال یہ ہے کہ آپ کی بیسوں کتابیں شائع کرنے کا خود مجھے شرف حاصل ہے ، اور اس وقت (2011 میں) دیوبند میں سب سے زیادہ خریدی جانے والی آپ کی کتابیں ہیں ، اسی لئے آج ہر تاجر سب سے زیادہ آپ کی کتابیں شائع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
آپ کے خطبات مقررین کے لیے پکی پکائی کھیر سے کم نہیں ہے، آپ کے تعلق سے لکھا ہے کہ ہر تقریر سے پہلے آپ مکمل تیاری کرتے ہیں، نوٹس تیار کرتے ہیں ، احادیث کا متن نوٹ کرتے ہیں، حوالے تلاش کرتے ہیں، حسب حال واقعات اور اشعار کے ذریعے اپنی ہر تقریر کو سجاتے سنوارتے ہیں، تقریر سے کچھ دیر پہلے تنہائی اختیار کرلیتے ہیں اور رب کریم سے رو رو کر دعا کرتے ہیں کہ اے اﷲ میری تقریر میں اثر دے، میری زبان میں حق بات کہنے کی صلاحیت پیدا فرما، حضرت پیر صاحب خود فرماتے ہیں کہ میں الہامی تقریر نہیں کرسکتا۔
آپ رات رات بھر مطالعہ کرنے کے بعد سامعین کو مخاطب کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کی تقریر موضوع کے دائرے میں رہتی ہے، حشو و زوائد سے پاک اور نہایت مرتب۔
آج پیر صاحب بلا شبہ ہم سب سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکے ہیں، مگر آپ کے خطبات خواہ صوتی ہوں یا پرنٹ ہمیں عمل پر ابھارتے رہیں گے ، اور عشق و محبت کی شمع ہم گنہگار دلوں میں روشن کرتے رہیں گے۔
آپ کی ایک تقریر جو سورة الضحیٰ کی تفسیر پر مبنی ہے، یوٹیوب پر سن کر بہت متاثر ہوا، جس طرح آپ نے عشق مصطفیٰ ﷺ میں ڈوب کر عاشقانہ تفسیر کی ہے سن کر دل تڑپ جاتا ہے۔
آپ کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ انجینیئر بھی تھے، اور انگریزی زبان میں بھی تقریریں کرتے تھے، آپ کی بہت ساری تقریریں انگریزی میں بھی یوٹیوب پر موجود ہیں۔
ویسے تو آپ کی ہر کتاب مؤثر اور عمل پر آمادہ کرنے والی ہے، مگر دو کتاب جسے پڑھ کر مجھے بہت اثر ہوا، ایک ” سفرنامہ کوہ طور ” اور دوسری ” اسیرِ برما ” ہے۔
آج آپ کے انتقال پر دل کر رہا ہے کہ کسی طرح اُڑ کر آپ کے پاس پہنچ جائیں، اور آپ کی آخری زیارت کر لیں اور پیشانی مبارک کو چوم لیں، مگر ہم جیسے دور دراز لوگوں کے لئے سوائے دعائے مغفرت و ایصال ثواب ہی ہے،
اسی لیے بارگاہ ایزدی میں ہم دعا گو ہیں کہ اللہ عزوجل حضرت پیر صاحب کی کامل مغفرت فرمائے اور علیین میں جگہ عطاء فرمائے اور آپ کے تمام متعلقین و منسلکین اور جملہ پسماندگان کو صبر عطاء فرمائے، آمین۔
احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا
خاک پائے اسلاف
مقیت احمد قاسمی گونڈوی
(امام وخطیب مسجد ناصر العلوم وصدر مدرس مدرسہ ناصر العلوم اسٹیشن روڈ صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ یوپی )
14/12/2025
