حیدرآباد 20/ جنوری(مشرقی آوازجدید): جمعیۃ علماء ضلع بھدرادری کتہ گوڑم کے زیرِ اہتمام منعقدہ مشاورتی اجلاس میں تنظیم کے استحکام، اصلاحِ معاشرہ اور خدمتِ خلق کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ اور فکر انگیز گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں علمائے کرام، ذمہ داران اور کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔
اجلاس کے دوران حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اہم تنظیمی نکات پیش کرتے ہوئے جمعیۃ کی مجموعی سرگرمیوں اور مستقبل کے لائحۂ عمل پر روشنی ڈالی۔
اسی موقع پر قاری یونس خان صاحب ناظم جمعیۃ یوتھ کلب تلنگانہ نے اپنے پریزنٹیشن میں جمعیۃ یوتھ کلب کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس کے سماجی و اصلاحی فوائد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو جمعیۃ یوتھ کلب سے وابستہ ہو کر خدمتِ خلق، دینی شعور اور معاشرتی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی پرزور ترغیب دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی نائب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ حضرت مولانا سعید احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم (کھمم) نے فرمایا کہ جمعیۃ کے حقیقی استحکام کے لیے کارکنان میں چند بنیادی صفات کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے نہجِ اکابر کی پہچان اور اس سے مضبوط وابستگی، عاجزی و انکساری، عفو و درگزر، نظم و نسق، باہمی اعتماد، اخلاصِ نیت اور اجتماعی فکر کو تنظیمی کامیابی کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ انہی اوصاف کے ذریعے جمعیۃ اپنے مشن کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکتی ہے۔
مہمانِ خصوصی حضرت اقدس مفتی تجمل حسین صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ، استاذِ حدیث دارالعلوم حیدرآباد نے اصلاحِ معاشرہ کے موضوع پر نہایت قیمتی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کی بے راہ روی کے سدِّباب کے لیے منظم اصلاحی محنت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور جمعیۃ اس میدان میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس موقع پر ضلعی صدر جمعیۃ علماء حضرت مولانا عبدالکریم صاحب رشادی دامت برکاتہم نے جمعیۃ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ کے مختلف شعبہ جات میں فی الحال جمعیۃ یوتھ کلب اور اصلاحِ معاشرہ دو ایسے اہم شعبے ہیں جن کے استحکام پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے اکابرین کی موجودگی میں تمام شرکاء سے ان دونوں شعبوں کو مضبوط بنانے کا عہد بھی لیا۔
اجلاس کے اختتام پر ریاستی صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ محترم حضرت اقدس مفتی شاہ احسان الدین صاحب رشادی قاسمی دامت برکاتہم العالیہ نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کے استحکام، اصلاحِ معاشرہ اور بلا تفریق مذہب و ملت خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ جمعیۃ علماء ہمیشہ انسانیت کی بھلائی، امن و بھائی چارے اور دینی و سماجی اصلاح کے لیے کوشاں رہی ہے اور آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھے گی۔
اجلاس حضرت صدر محترم کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اور بعد جلسہ تمام شرکاء کے لئے کھانے کا نظم کیا گیا۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے