ظہیرآباد13 مئی (مشرقی آواز جدید): مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کو ریاستی حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے ان کے بیٹے بھگیرتھ پر درج POCSO کیس کو پانی میں بہانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بنڈی بھگیرتھ کا نابالغ بچی پر جنسی زیادتی کرنا سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ چیف منسٹر نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو اپنے پاس رکھا ہے مگر اس کی طرف توجہ نہ دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ نابالغ بچی پر درندگی کے الزامات کے ساتھ بھگیرتھ پر FIR درج ہوئی اور تین دن گزر چکے ہیں مگر اب تک گرفتار نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟  مسٹر نروتم کا کہناہے کہ چیف منسٹر کے حکم پر ہی پولیس گرفتاری میں تاخیر کر رہی ہے۔ بچی اور اس کے خاندان کے افراد کو پولیس دھمکیاں دے رہی ہے۔  POCSO کیس کو عام کیس میں بدل کر اسے بے اثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا وزراء کے بیٹوں کے لیے ایک قانون اور دوسروں کے لیے دوسرا قانون ہے؟ عوام کا قوانین پر اعتماد ختم نہ ہو، اس کے لیے پولیس کو غیر جانبدارانہ طور پر اپنا فرض نبھانا چاہیے اور بھگیرتھ کو فوری گرفتار کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ اس پروگرام میں سابق سرپنچ شنکر، رہنما یس. گوپال، نبی صاحب اور دیگر سیاسی سماجی قائدین موجود تھے۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے