ریلوے لائن کے لیے اراضی حصول کا نوٹیفکیشن جاری
چکھلی ضلع بلڈانہ (ذوالقرنین احمد): ودربھ اور مراٹھواڑہ کو جوڑنے والے اہم اور طویل عرصے سے زیرِ التوا کھامگاؤں-جالنہ ریلوے لائن منصوبے کے سلسلے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومتِ ہند نے اس اہم ریلوے منصوبے کو منظوری دیتے ہوئے 26 مئی کو شائع ہونے والے سرکاری گزٹ میں اراضی حصول کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کو 115 برس سے جاری عوامی مطالبے کی تکمیل کی جانب ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ریلوے (ترمیمی) ایکٹ 2008 کی دفعہ 37-A کے تحت مرکزی حکومت نے جالنہ اور کھامگاؤں کے درمیان مجوزہ ریلوے لائن کو ’’خصوصی ریلوے پروجیکٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ سنٹرل ریلوے کے دائرۂ کار میں آنے والے اس منصوبے کو قومی بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور عوامی مفاد کے تناظر میں انتہائی اہمیت حاصل ہے۔
سرکاری گزٹ کے مطابق اس ریلوے لائن کے لیے اراضی حصول کا عمل جالنہ اور بلڈھانہ اضلاع میں نافذ کیا جائے گا، جس کے بعد منصوبے کی عملی پیش رفت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ بلڈھانہ اور جالنہ اضلاع کی ریلوے عوامی تحریک کمیٹی، سماجی کارکنان اور مقامی شہری کئی برسوں سے اس منصوبے کے حق میں مسلسل جدوجہد، احتجاج اور نمائندگی کرتے آ رہے تھے۔ تقریباً دو سال قبل ریاستی حکومت نے بھی منصوبے کے لیے 50 فیصد مالی حصہ فراہم کرنے کے سلسلے میں مرکزی حکومت کو باضابطہ مکتوب روانہ کیا تھا۔ ان تمام کوششوں کے نتیجے میں منصوبے کی منظوری ملنے پر دونوں اضلاع میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق کھامگاؤں-جالنہ ریلوے لائن کی تکمیل سے ودربھ اور مراٹھواڑہ کے درمیان اقتصادی، صنعتی اور تعلیمی سرگرمیوں کو نمایاں فروغ حاصل ہوگا۔ بالخصوص بلڈھانہ اور جالنہ جیسے نسبتاً پسماندہ اضلاع کے لیے یہ منصوبہ ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ اس کے علاوہ تجارت، زرعی پیداوار کی نقل و حمل، روزگار کے مواقع اور عوامی سفری سہولیات میں بھی خاطر خواہ بہتری متوقع ہے۔
دریں اثنا، ریلوے عوامی تحریک کمیٹی نے اس اہم منظوری پر مرکزی وزیر ریلوے اشنوی ویشنو ، وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایک ناتھ شندے، مرکزی وزیر مملکت برائے آیوش پرتاپ راؤ جادھو اور چکھلی اسمبلی حلقے کی رکن اسمبلی شویتا تائی ماحلے پاٹل کا شکریہ ادا کیا ہے۔
