(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: محکمہ آبپاشی کے بالمقابل آزاد نگر، نوگڑھ-اُسکا روڈ پر منگل کی رات تقریباً 9-10 بجے تھانہ سدھارتھ نگر کے حلقہ اور دائرہ میں کچھ خونخوار مجرم بڑکا، سمیر، گولو عرف ریحان، عمران، اکبر علی اور دیگر کئی افراد نے مل کر فیصل، اظہر اور زین الدین پر تیز دھار اسلحوں سے حملہ کر کے شدید طریقے سے زخمی کر دیا۔ جس سے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر ہے۔
زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی گئی۔ ومل پانڈے کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے صدر سرکل آفیسر نے متعلقہ دفعات کے تحت ملزمین کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ سدھارتھ نگر ڈسٹرکٹ اسپتال میں واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اسٹیشن اور صدر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سی او) سمیت بڑی تعداد میں پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے، معاملے کا نوٹس لیا اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا یقین دلایا۔
پتہ چلا ہے کہ بڑکا اور اس کے ساتھی اس سے قبل بھی شہر میں اسی طرح کے کئی جرائم لوگوں کے ساتھ کر چکے ہیں۔ابھی 10-12 دن پہلے محمد زاہد رضا کو بڑکا اور اس کے ساتھیوں نے کھجوریا کے زائیکا ریسٹورنٹ کے سامنے سے ایک تھار گاڑی میں اغوا کر کے بری طرح سے مارا پیٹا تھا جس کے بعد اہل خانہ نے مقامی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس سے مذکورہ ملزمین کو مزید حوصلہ ملا جنہوں نے اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اگر مقامی پولیس بڑکا اور اس کے ساتھیوں کے خلاف بروقت سخت کارروائی کرتی تو ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوتے۔ بڑکا کے خلاف مقامی پولیس اسٹیشن میں کئی سنگین مقدمات درج ہیں اور اس کے اوپر گینگیسٹر کا مقدمہ بھی عائد ہے۔ اس کے باوجود بڑکا اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ اتنی نرمی اور ان کی مسلسل رہائی سمجھ سے بالاتر ہے اور حکومت اور انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

