(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر
سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن "نئی آواز” کے زیراہتمام یوم آزادی کے موقع پر ڈاکٹر جاوید کمال کی رہائش گاہ پر گز شتہ شب ایک شعری نششت کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع بھر کے شاعروں اور ادیبوں نےاپنی اپنی اشعار سے شہیدان وطن کو خراج عقیدت پیش کیا۔
نشست کا آغاز با نسی کےکرن ویر سنگھ کے اشعار سے ہوا۔
کتنے کشٹ سہے ہوںگے، دکھ کے بادل ٹوٹے ہوں گے
اپنوں سے دور ہوئے ہوںگے، ماں کے آنچل چھوٹے ہوں گے۔
افسر نوری۔
سلگتی دھوپ میں چھائوں سے بات کرتے ہیں
مرے چراغ ہوائوں سے بات کرتے ہیں۔

سنگھشیل جھلک۔
مجھے کیوں بھلانے کی ضد کر رہے ہو
مرا دل جلانے کی ضد کر رہے ہو۔

ڈاکٹر نوشاد اعظمی۔
ہے کیا کیفیت پسر سو پوچھو
کہ سایہ جن کے سرماں کا نہیں ہے۔

شیو ساگر سحر۔
مانو یا نہ مانو یہ تو مرضی ہے تمہاری
پر ہجر میں اس بار غلطی ہے تمہاری۔

مونس فیضی۔
مجھے غم ہی غم ملے ہیں ، میں خوشی کہاں سے لائوں
میری ہمنشیں بتا دے بھلا کیسے مسکرائوں۔

ایڈوکیٹ شاداب شبیریؔ
مڑ مڑ کے دیکھتا ہوں یہ جانتے ہوئے
سحو نظر معاف ہے قصد نظر حرام۔

ڈاکٹر فضل الرحمٰن
آئے شوق خودکشی کر لیں، ناز نینوں سے دوستی کر لیں۔
موت اب بھی نہ آئے تو، ایک بیوی پر دوسری کر لیں۔
نور قاسمیؔ
تیرگی بولتی ہے سر چڑھ کر
ہر طرف لاش ہے چراغوں کی۔
ڈاکٹر جاوید کمال۔
پلٹ کر دیکھ لو تاریخ کی کتابوں میں
چمن کو جس نے سنوارا وہی بہار ہوں میں۔
نجمی کمال خان گونڈوی۔
ھندو ، مسلم ، سکھ، عیسائی، کوئی نہیں ہے بھائ وائی
نفرت کی دیواریں ہیںبس، بیچ میں ہے ایک گہری کھائی۔

پروگرام کی صدارت گونڈہ کے شاعر نجمی کمال خان نے کیا اور نظامت نور قاسمی نے کیا۔پروگرام کے آخر میں سبھی نے ایک دوسرے کو یوم آزادی کی مبارک باد دیا اور میٹھائیاں کھلائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے