سیرت محسن انسانیتﷺاورہماری ذمہ داریاں سے امیر شریعت حضرت مولانا شاہ جمال الرحمن صاحب مفتاحی کا خطاب
حیدرآباد 14 ستمبر(مشرقی آواز جدید): مولانا انصار شاکرحسامی جزل سکریٹری جمعیۃ علماء عنبرپیٹ کی اطلاع کےبموجب جمعیتہ علماء عنبرپیٹ کے زیر اہتمام و مسجد زم زم عنبرپیٹ کےزیرانتظام بمقام مسجد زم زم عنبرپیٹ،زیرسرپرستی حضرت مولانامصدق القاسمی صاحب صدرسٹی جمعیتہ علماء گریٹر حیدرآباد، زیر صدارت مولاناحافظ محمدیعقوب قاسمی صاحب صدرجمعیتہ علماء عنبرپیٹ، جلسہ سیرت محسن انسانیتﷺمنعقدکیاگیاجس میں مہمان خصوصی کے طور پر کلیدی خطاب کےلیے ریاست تلنگانا کے بزرگ وموقرعالم دین عارف باللہ حضرت مولانا شاہ محمدجمال الحمن صاحب مفتاحی مدظلہ امیرشریعت تلنگانا و آندھرا تشریف لائے۔ حافظ وقاری نعیم احمد نے قرات کلام پاک و مولاناپیرعبدالوہاب عمیرقاسمی نےہدیہ نعت پیش کی،بعدہ حضرت شاہ صاحب مدظلہ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنی زندگی میں اسوۂ نبویﷺ پیدا کرنےکی بہت ضرورت ہے جب تک ہم اپنی حالت نہیں بدلتےحالات نہیں بدلینگے، اپنے اندرون میں اچھے اخلاق اور اعلی صفات پیداکریں، ہم پیارےنبیﷺ کو اپنی نظر میں جماتےچلےجائیں،حضورﷺنےجوکہا اس پرعمل کریں،جن سےمنع فرمایا اس سے رکنا یہی اصل میں عشق رسولﷺ واتباع رسول ﷺ ہے۔ اسی بات پرحضرت شاہ صاحب نےحضرت شاہ صوفی غلام محمدصاحب رحمہ اللہ کاشعرنقل فرمایاکہ نبی کو نظر میں جماتا چلاجا، خداکی نظرمیں سماتاچلاجا۔ اور فرمایاکہ یہ نصیحت ضروریادرکھیں، آج کےاجلاس کا یہی اصل پیغام ہے،پیارےنبیﷺ نے دنیا کی فکر زیادہ کی یا آخرت کی فکر زیادہ کی،یہ دیکھنے کی ضرورت ہے سرکاردوعالمﷺپرہماری نظرہو،جب ان پرنظرکرینگےتوپتہ چلےگا کہ ان کے پاس فکر آخرت زیادہ تھی فکردنیاکےمقابلہ میں،حضورﷺنے اپنی زندگی سادگی سے بسرکی،ہمیں اپنی حالت پر غورکرناچاھیےکہ جوچیزہمارےپاس افطارتھی وہ انکا شکم سیر کھاناتھا۔اللہ نےنعمتیں دیں ہیں توضروراستعمال کریں ،لیکن اللہ کی مرضی کےخلاف نبی رحمتﷺکی تعلیم کے خلاف اورانکی ہدایات کےخلاف نہ کریں، ہمیں بڑوں کی ہدایات انکی تقاریریاد نہیں رہتیں،صرف یہ کہتےہیں کہ انہوں نےبیان اچھاکیا لیکن کیاکہاوہ یاد نہیں رہتا،صحابہؓ کا دل گورا اور اُجلاتھا،آج ہمارے دلوں میں اندھیرا ہےاورہم دنیاکےاجالوں کےپیچھےبھاگ رہےہیں صحابہؓ پیارےنبیﷺ کےنزدیک پسندیدہ تھے،ہم صبح وشام اپنےبیوی بچوں کی فکر میں رھ رہے ہیں کہ میرے دنیا سےجانےکےبعد میرے بیوی بچوں کاکیاہوگا۔ ہم دنیامیں اپنی موت کاوقت طئےکرکےآئیں ہیں،ہمیں ہمیشہ یہاں رہنانہیں ہے۔پھر حضرت نےخواتین کوجو بڑی تعدادمیں جمع ہوئیں تھیں انکونصیحت کرتےہوئےفرمایاکہ جیسےماں باپ کرتےہیں بچےبھی وہی کرتےہیں، ماں باپ لڑتےہیں تو بچے بھی لڑتےہیں ماں باپ گالی گلوچ کرتےہیں توبچےبھی وہی کرتےہیں،اس کےمقابلہ میں ماں باپ نماز پڑھتےہیں تو بچےبھی وہی نقل کرتے ہیں ہماری زبان اردو ہے لیکن ہمارے معصوم بچے بنااسکول گئےاچھی سے اچھی اردوزبان بولتےہیں یہ کس نےانہیں سکھایا،جیسےبچےزبان سیکھتے ہیں ویسے ہی کام بھی سیکھتے ہیں کوئی عورت بغیرپردہ کےباہرنہیں نکلتی، اس معصوم کو معلوم ہوتاہے وہ بارباراپنی ماں کو برقعے کی طرف اشارہ کرکے کھینچ کھینچ کر لیجاتے ہیں اس کو معلوم ہے کہ ماں بغیربرقعہ کےباہرنہیں نکلتی،یہ کہاں سے سیکھا انہوں نے? اس لیے ماں باپ کی ذمہ داری ہےکہ وہ اپنوں بچوں کو بہترین اور اعلی اخلاق کا حامل بمائیں، ہرطرف گمراہیاں پہیلی ہوئی ہے اپنےبچوں بچیوں کی خاص طورپرنگرانی کریں،پھرحضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں نے سنا کہ یہاں خواتین کثیرتعداد میں جمع ہوئی ہیں،اس لیےعرض کررہاہوں کہ ماں کی ذمہ داری زیادہ ہےباپ کےمقابلہ میں، اس لیےکہ بچے ماں سے زیادہ مانوس ہوتےہیں، باپ سے کم مانوس ہوتےہیں۔اسکےبعدحضرت شاہ صاحب نےکافی خوشی کااظہارفرمایا،توقع اور امید سےزیادہ حضرت نے ایک گھنٹہ سے زائد طویل خطاب فرمایا،الحمداللہ سامعین میں حفاظ،علماء،ائمہ،خطباء،موذنین کے علاوہ بہت بڑی تعداد عوام الناس کی(مرد و خواتین ) کی جس میں بڑے، چھوٹے، نوجوان طلبہ، دعوت وتبلیغ کےاحباب اورجمعیتہ علماء کےکارکنان کثیرتعدادمیں موجود رہے،سب ہی نےحضرت شاہ صاحب سے استفادہ کیا، حضرت کے خطاب کے بعد جمعیتہ علماء حلقہ عنبرپیٹ کےصدرمحترم مولاناحافظ محمدیعقوب قاسمی مدظلہ نےکہا کہ تمام مصلیان مسجد زم زم، مخلصین، منتظمین، معاونین وذمہ داران مسجدوجمعیتہ علماءعنبرپیٹ کی یونٹ کےذمہ داران و شرکائے اجلاس کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ کہ انہوں نےاجلاس منعقد کرنے کے سلسلہ میں اپناجانی مالی تعاون پیش کیا اللہ سب کوبہترین جزائےخیرنصیب فرمائے،سب جانےسےپہلےدورکعت نمازشکرانہ پڑھ کر دعا کرکے جائیں کہ یا اللہ اس وقت جو باتیں تونے دل میں اتاری ہماری زندگی میں بھی اتار دے، تمام مردوخواتین کےلیے مسجد زم زم کےزیرانتظام کھانےکا بہترین نظم کیاگیا۔ اس موقع پر اجلاس کے مہمان خصوصی خادم قرآن مولاناحافظ محمدغوث رشیدی صاحب مدظلہ اپنی طبیعت کی ناسازی کی بناء شریک نہ ہوسکے لیکن اس جلسے کی کامیابی کیلئے فکر مند رہے بالخصوص خواتین میں آلات سماعت مائک سسٹم کابہترین انتظام فرمایا،خواتین کےلیے پردہ اورکھانے کانظم حافظ انورصاحبؒ کے مکان، گلی، اور زین العابدین صابر بھائی کےمکان میں کیاگیا،کھانے کے وقت بارش کےباوجود اللہ رب العزت نےتمام کاموں میں آسانی پیدافرمادی۔ نوجوانان مسجد زم زم وجمعیتہ علماء عنبرپیٹ نےکافی محنت سےاپنی خدمات پیش کیں۔
اس موقع پرمولانایعقوب قاسمی، مولاناسیدعبادبن ذکی مظاہری، مولانامعزالدین ندوی، مولانازکریافہدقاسمی، حافظ حمیدالدین متین، مولاناعبدالرحمن زاہد، حافظ سیدخالداحمدمظہری، حافظ عبدالقدیر پاشاہ، مفتی محمداسحاق قاسمی حافظ عبداللہ امام مسجد زم زم،حافظ فیروز، جناب عبدالرحیم صاحب حافظ ابرار، حافظ ارشد، حافظ زکریا، حافظ عمر، محمدامان،محمدارشد،
