- غریب اور زرعی مزدوروں کی نقلِ مکانی کے تدارک
- کلبرگی میں ریلوے ڈویژنل دفتر،
- ہر سال کلیان کرناٹک اتسو دیوس سرکاری سطح پر منانے کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی کا کلبرگی میں منعقد شدنی کابینی اجلاس سے مطالبہ.
- پریس کانفرنس میں بسواراج دیشمکھ، ڈاکٹر لکشمن دستی
- ڈاکٹر ماجد داغی، پروفیسر آر کے ہڑگی، بسوراج کمنور اور دیگر کی شرکت
کلبرگی 9/ستمبر. (محمدیوسف رحیم بیدری): حکومت کرناٹک نے کلیان کرناٹک خطے کے لئے آئین کے آرٹیکل 371 (جے) کے نفاذ کی 10 ویں سالگرہ کے موقع پر 17 ستمبر 2024 کو کلیان کرناٹک کے ڈویژنل سینٹر، کلبرگی میں کابینہ کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس خصوص میں کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی ضلع انچارج وزیر پریانک کھرگے کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہے کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ مسٹر سدارامیا اور تمام وزراء کی رضامندی حاصل کرتے ہوئے کلبرگی میں کابینی اجلاس کے انعقاد کو یقینی بنایا۔ اس بات اظہار مسٹر بسواراج دیشمکھ اور ڈاکٹر لکشمن دستی نے پتریکا بھون کلبرگی میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا. انہوں اس سلسلہ میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ دفعہ 371 (جے) کی شق 12 (اے) کے تحت خصوصی حیثیت کے حامل مسائل اور اپیلوں کے ازالے کے لئے ڈویژنل سینٹر، کلبرگی میں ایک علیحدہ ٹریبونل قائم کرنا بےحد ضروری ہے۔ سمیتی حکومتِ کرناٹکا سے اس سلسلے میں پر زور مطالبہ کرتی ہے. سمیتی کے دیگر عہدیداران نے بتایا کہ دفعہ 371 (جے) سے متعلق تقریبا 30 معاملات زیر التوا ہیں اس کی یکسوئی کے لئے عمل درآمد ضروری ہے. اسی طرح کے کے آر ڈی بی کلیان کرناٹک خطے کی ہمہ جہتی ترقی اور علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کے لئے موثر اقدامات کے لئے بھی پہل کی جانی چاہیے۔ ایک وژن کے ساتھ 5 یا 10 سالہ ایکشن پلان تیار کرنا اور مقررہ وقت میں ترقی کے لئے اقدامات طے کرنا بھی بےحد لازمی ہے. انہوں نے بتایا کہ ننجڈپپا رپورٹ کی بنیاد پر کلیان کرناٹک میں گرام پنچایتوں کی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور بنیادی ڈھانچے ، صحتِ عامہ ، آمدنی کے ذرائع وغیرہ سمیت اہم موضوعات کو مدنظر رکھتے ہوئے عصری انداز میں رپورٹ تیار کی جائے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر کے کے آر ڈی بی کے ذریعے پنچ سالہ منصوبہ یعنی ایک ایکشن پلان تیار کیا جائے ۔
کلیان کرناٹک کی ترقی کے لئے چیف منسٹر کے ذریعہ طلب کردہ پیکیج کو پورا کرنے کے لئے کلبرگی کابینہ کے ذریعہ مرکز سے 10,000 ہزار کروڑ روپئے کے خصوصی پیکیج کے حصول پر دباؤ ڈالا جائے ۔ اسی طرح کلیان کرناٹک ڈیولپمنٹ بورڈ کے تحت ایک مانیٹرنگ کمیٹی، جائزہ کمیٹی اور ویجیلنس کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ معیار کے کام شفاف طریقے سے انجام دیئے جائیں اور ان کی خصوصی نگرانی بھی ہوسکے۔
کلیان کرناٹک خطے میں ذرعی اور غریب عوام کی نقلِ مکانی کے تدارک کے لئے زراعت اور غیر زرعی شعبے میں روزگار پیدا کرنے کو خصوصی ترجیح دی جائے ۔ اس کے مطابق ہنرمندی کی ترقی کی تربیت کا انعقاد کیا جائے۔ ریاستی حکومت کرشنا اور اپر کرشنا پروجیکٹ کو مرکزی حکومت کی اسکیم کے تحت شامل کرنے کے لئے راضی کرچکی ہے ، تاہم اس خصوص میں کلبرگی کابینہ کی طرف سے بھی سرکاری دباؤ ضروری ہے ۔
کرشنا اور گوداوری ندیوں کی وادیوں میں ~ذذزیرِ التوا آبپاشی پروجیکٹوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔ اور کلیان کرناٹک خطے میں بڑے درمیانے اور چھوٹے آبپاشی پروجیکٹوں کو کرشنا بھاگیہ جل نیگم کے دائرہ کار میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی آج کا ایک اہم تقاضہ ہے ۔ اس سے ہمارے علاقے میں آبپاشی پروجیکٹوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے میں آسانی ہوگی۔ اس کے مطابق، پانی کے استعمال کے لئے کلیان کرناٹک میں بڑی تعداد میں پل بیراج تعمیر کیے جائیں گے۔ عہدیداران نے مطالبہ کیا کہ کلیان کرناٹک خطے کے لئے ایک علیحدہ زراعی و دستکاری پالیسی تشکیل دینی چاہیے ۔اور ضلع بیدر اور کلیانی قلعوں کے خصوصی تحفظ کے ساتھ ساتھ انوبھا منٹاپا سے کلیان کرناٹک خطے کے حدود تک آنے والے قدرتی وسائل ، قلعوں کی داغ دوزی، مرمت اور دیگر ترقیاتی کام انجام دیں جس سے سیاحتی مقامات کو ترقی حاصل ہو۔ اس سے لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی۔ اس کے مطابق ہمپی سمیت کلیان کرناٹک کے تمام سیاحتی مقامات کے لئے سنگل (زون) سرکٹ بنایا جانا چاہئے. کلبرگی سیکنڈ رنگ روڈ، بیدر، بنگلور اکنامک کوریڈور کی تعمیر ۔ اور کلبرگی شہر میں ایک نیا شہر تعمیر کیا جائے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ کلبرگی میں ریلوے ڈویژنل دفتر قائم کرنے کے لئے کابینہ کے اجلاس سے مرکز پر دباؤ ڈالنا۔ کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی نے مطالبہ کیا کہ بسواودی شرنوں کے مرکز بسواکلیان کو ضلع کا درجہ دیا جائے ، جو کلیان کرناٹک کی تاریخ کی تکمیل کرتا ہے، جس کی ایک شاندار تاریخ ہے اور جس نے دنیا کو پارلیمنٹ دی ہے، جو بسوننا کے لئے ایک ثقافتی رہنما بننے کے قابل بنائے گا. اسی طرح راشٹرکوٹوں کی یاد میں، کلبرگی نے کنڑ دنیا کو کاوی راجا مارگ دیا، جس کی ایک شاندار تاریخ ہے، سیڈم کو راشٹرکوٹا ضلع قرار دیا جانا چاہیے اور ہماری شاندار تاریخ کی عظمت کا اظہار کیا جانا چاہیے۔ میسور فیسٹیول کی طرز پر ہر سال کلیان کرناٹک اتسو دیوس سرکاری سطح پر منایا جائے ۔ تور بورڈ کو ایک مضبوط شکل دی جائے جس کے ذریعے اس کی پیداوار کی مختلف اقسام کے لئے ترغیبات، امدادی قیمتیں، خریداری اور فروخت کے لئے بازار بنائے جائیں۔ کلیان کرناٹک میں تیل دار فصل کی کاشت کے لئے مراعات دی جائیں اور اس سلسلہ میں چھوٹے کسانوں کو معاوضہ دیا جائے۔ کلیان کرناٹک میں ایس ایس ایل سی نتائج کے بہتری اور تعلیمی معیار میں اضافہ کے اقدامات کئے جائیں اور اس پر کڑی نظر رکھنے کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ پی یو سی کے نتائج بھی خوش آئند ہوں۔ کلیان کرناٹک خطے میں گرین کوریڈور کی تعمیر کے لئے مقررہ وقت میں کارروائی کی جائے۔ اس پریس کانفرنس کے اہم شرکاء میں پروفیسر آر کے ہوڑگی، ڈاکٹر بسوراج کمنور، ڈاکٹر ماجد داغی ، ڈاکٹر منیش جاجو ، گاندھی جی مولکھارے، سنیل کلکرنی، اشوک گروجی اور اسلم چونگے کے نام شامل ہیں
Post Views: 227
