بیدر۔ 13؍ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): دنیابھر میں فحاشی اور پورن انڈسٹری کا بول بالا ہے۔ کہاجاتاہے کہ دنیابھر میں کمائی کا سب سے آسا ن ذریعہ پورن انڈسٹری ہے اور فحاشی کوبڑھاوادے کرآپ کروڑہا روپئے رقم بآسانی کماسکتے ہیں۔ گندی فلموں، گندی تصاویر اور گندے ویڈیوز نے نوجوان لڑکے لڑکیوں میں تباہی مچارکھی ہے ۔ جس کاساتھ سوشیل میڈیا دے رہاہے۔ قتل کے معاملات کو سوشیل میڈیاکے ذریعہ پھیلانے پرکچھ حدتک پابندی عائد کردی گئی ہے لیکن فحاشی پر ویسی پابندی نہیں ہے جیسی کہ ہونا چاہیے۔ آج ہی کی بات ہے کہ گوگل اپنی ایک سائٹ پر سب سے اوپر منسلکہ تصویر دے کر ہندی زبان میں پوچھ رہاہے کہ ’’KISS کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟ نام سن من میں بتاشے پھوٹیں گے‘‘ لڈو پھوٹنا سنا تھا لیکن اب بتاشے بھی کہیں پھوٹتے ہیں۔
خیر ہمیں محاورے سے لینا دینا نہیں ہے، صرف اعتراض اس بات پر ہے کہ ایک داڑھی ٹوپی والے مسلمان اور ایک سرڈھانکی ہوئی مسلمان جیسی لگنے والی لڑکی کے Kiss کرنے کی تصویر کے نیچے ہندی میں سوال لکھ کران تک Kiss کا اردو لفظ بتلاتے ہوئے فحاشی کو عام کرنا کہاں تک درست ہے ؟ تصویر ڈالنے والے کو اس طرح کی تصویر ڈالنے کا کتناحق پہنچتا ہے؟ کیاآپ کو نہیں لگتا کہ گوگل بھی فحاشی کو عام کرتے ہوئے پیسہ کمانے میں لگا ہے۔ وہ اس طرح کی تصاویر کو ایڈیٹ نہیں کرتا۔ دوسری جانب مسلمان علماء، عوام، مشائخین اور مسلمانوں کی دینی اور سماجی تنظیمیں فحاشی کے خلاف مسلسل بیانات دے رہی ہیں ۔ خطبات میں فحاشی کے نقصانات بیان کررہی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشیل میڈیا، گوگل اور پورن فلم انڈسٹریز کے خلاف بھی سڑکوں پر اتراجائے۔ اور فحاشی کے خلاف قانون بناکر دم لیاجائے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ فحاشی نے گھرہی نہیں ملکوں کو بربادکرڈالا ہے۔ اور جس ملک میں فحاشی عام ہوجاتی ہے اس ملک کی تہذیبی اور معاشرتی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔
