مہراج گنج (نمائندہ) 8/نومبر : کولہوئی بازار کے بزم فکر و فن کے زیر اہتمام عالمی یوم اردو (اقبال ڈے) کے پرمسرت موقع پر ایک مشاعرے کا انعقاد بھارت میرج ہال میں 8 / بجے شب کو ہوا۔ جس کی صدارت ولی اللہ ندوی اور نظامت نور قاسمی نے کی۔

نجم الہدیٰ سلفی کی حمد و نعت سے مشاعرے کا آغاز ہوا علامہ اقبال کو متفرق طور پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے ادبی کارناموں کو یاد کیا گیا ۔ یکے بعد دیگرے اردو اور علامہ اقبال کی شخصیت پر شعراء کرام اور ناظم مشاعرہ نور قاسمی نے روشنی ڈالی ۔

شعراء کے منتخب اور پسندیدہ اشعار قارئین مشرقی آواز جدید کی نذر ہیں۔۔

نہ چاہتے ہوئے رشتہ میں توڑ آیا ہوں

بڑی حسین تھی بستی جو چھوڑ آیا ہوں

                    ریاض قاصد

اندھیرے میں زمانہ ہے اجالے کی ضرورت ہے

بتا دو بجلیوں کو راہ میرے آشیانے کی

                     ‌نور قاسمی

سر راہ حادثے ہیں سر بزم ہے اداسی

سبھی کہہ رہے ہیں پھر بھی کوئی گیت گنگناؤ

                      مونس فیضی

چاروں طرف ہے ظاہر اردو کی باغبانی

سب مل کےکر رہے ہیں اردو کی پاسبانی

                 جاوید سرور

الفت بھری مٹھاس ہے اردو زبان میں

اردو ہماری روح میں ہے اور جان میں

                 ڈاکٹر نیاز اعظمی

یہ ناؤ بیچ بھنور میں پہنچ گئی کیسے

ضرور کوئی منافق ہے اس سفینے میں

                   امجد رحمانی

جو دکھاتے ہیں اداکاری بھرے اسٹیج پر

ڈگڈگی لے کر انہیں بندر نچانا چاہیے

            رفیع نعمانی

میری اردو زباں میری پیاری زباں

یہ ہے ساری زبانوں سے نیاری زباں

       پنکج سدھارتھ

ان کے علاوہ عطاء اللہ شاہ، مرتضی مہراج گنجی اور

ارمان عالیاوی نے اپنے کلام پیش کئے۔

کنوینر مشاعرہ منشی مرتضی حسین کے ذریعہ مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا اور 12 بجے شب مشاعرہ اختتام کو پہنچا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے