پرتاول(پر یس ریلیز): حضور سید افضل میاں علیہ الرحمہ کے قابل شرف اکلوتے فرزند سید محد برکات حیدر میاں کے نام کے ساتھ علیہ الرحمہ کے لاحقہ نے بے ساختہ کلمات ترجیع کے ورد زباں ہونے پر مجبور کر دیا، دل حزن وغم میں غرق ہوگیا ،غالبا دوروز قبل اختتام پذیر مارہرہ مطہرہ کا” عرس قاسمی "اپنی انبساط آوری وروح پروری کے خوش گوار احساسات کے ساتھ قلوب و اذہان کے لۓ جلا بخش بنا ہوا تھا کہ اج اچانک اس جاں سوز حادثہ نے بشمول خانوادہ تمام متوسلین ،متعلقین و معتقدین کو افسردہ کر چھوڑا ،ہم اس کرب کی گھڑی میں بالخصوص حضور امین ملت،رفیق ملت ، شرف ملت اور اس خانوادے کے غم و حزن میں شریک ہیں۔
مذکورہ کلمات تعزیت پیش کرتے ہوۓ دارالعلوم قادریہ سراج العلوم برگدہی کے استاذ مفتی قاضی فضل رسول مصباحی نے کہا یہ خانوادہ کئ سالوں سے اپنو ں کے بچھرنے کا صدمہ جھیل رہا ہے مگر تحریک مذہب و تبلیغ دین میں اپنا نمایاں کردار تسلسل کے ساتھ پیش کرکے خلق خدا کو رشد و ہدایت سے بہرہ ور فرما رہا ہے۔

پرنسپل دار العلوم ہذا علامہ شیر محمد قادری نے کہا یوں تو جواں سال بیٹے کی دائمی مفارقت کا الم سب کو ہوتا ہے یہ فطری امر ہے مگر اکلوتے لائق فرزند کا یوں عالم شباب میں رحلت کر جانا خصوصاً ماں کے لۓ انتہائی قلق اور دکھ کا سبب ہے اور اس کنبے کو اس سے دوچار ہونا پڑا ہے ،مگر مشیت ایز دی کے سامنے صبر و شکر پر ہی وعدئہ اجر وثواب ہے اور بندہ صابر و شاکر کو اسی کی آرزو محمود و محبوب ہے،ہم سب اس حادثے کی گھڑی میں محزون و مغموم کنبے کے ساتھ کھڑے ہیں ،خبر ملنے پر دارالعلوم میں حزن و ملال کا سماں بندھ گیا ،فورا ہی قرآن خوانی کا اہتمام کرکے حضرت ممدوح کی روح کو ایصال کیا گیا اور جنت میں بلندئ درجات کی دعا کی گئ۔ قاری نور الہدی مصباحی، مفتی شمیم احمد نوری استاذ دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف راجستھان ،کاتب ذوالقرنین خان ،مولانا توحید احمد مصباحی ،قاری توصیف رضا صفوی، حافظ مسعود عالم ،مولانا مسعود عالم سراجی، ماسٹر غفران اللہ کے علاوہ درجنوں علما و حفاظ و دانشوران نے انکی مغفرت کے لیے دعائیں کی ہیں۔
