میرؔبیدری، بیدر، کرناٹک
کسی سے بھی یہاں جھگڑا کرو نکّو
جلیبی تم ہو، کچھ کڑوا کرو نکّو
ذَرا بھی جان پو قرضہ کرو نکّو
اگر کردار ہے ۔۔۔اُوچھا کرو نکّو
کہیں گِرگِر نہ جاؤں میں اُٹھانے میں
میاں احسان تم اِتّا کرو نکّو
بُرامانی تو جھگڑا ہوگا، لفڑا بھی
تم اپنی حور پر غصّہ کرو نکّو
ڈھلی وہ رات، اُگا سورج لہٰذا تم
خود اپنے آپ سے دھوکاکرو نکّو
ہزاروں سال بعد اِن بھی ہوئے پیدا
بڑا منہ ہے ، اِسے چمچہ کرو نکّو
وہ تخت اور تاج لاؤگے کہاں سے تم
میاں اکبر یہاں جودا کرو نکّو
بتایا جِتّاہے اس پر چلو نا تم
نہیں ہے دِین میں پوجا ،کرو نکّو
وطن سے سیکھتے ہیں نوجواں کیاکیا
’نہ‘ یا’ ہاں‘ لکھا ہو ۔۔۔۔سجدہ کرونکّو
اگر فتنے زیادہ ہیں تو ہونے دو
زمانہ ہے خدا ، پردا کرو نکّو
یہی تو میرؔ اب اسلام سے سیکھیں
اگر شیطاں کہے توبہ ، کرو نکّو

میر بھائی، خیالات دلچسپ ہیں، بحر اور اوزان کا خیال کیجیے گا.