میرؔبیدری، بیدر، کرناٹک

کاش ہم دوستی کرہی لیتے
اس طرح زندگی کرہی لیتے

کب اندھیروں کے قابو میں ہوتے
چل کے ہم روشنی کرہی لیتے

اک زمانے کو ہوتی خبر کیا؟
ایک سی دل لگی کرہی لیتے

حرمتِ عشق ہے اس سے ورنہ
زندگی عیب سی کرہی لیتے

یاد میں ڈوبے رہتے خدا کی
عشق سے آگہی کرہی لیتے

ہاں بتوں کی امامت سے ہیں دور
پیروی اُن کی ہی کرہی لیتے

قلب ِ آوارہ کو چاہتے جو
میرؔدانہ بہی کرہی لیتے

بات ہی بات میں میرؔدیکھو
غم کو بھی گدگدی کرہی لیتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے