عبدالرحمن راشد عمری
ظالم کا سر تو ظلم کے پھندے میں آگیا
لیکن وہ حکمرانوں کے حلقے میں آگیا
اس نے صدا لگائی تھی پر ہار ہوگئی
وہ آستیں کے سانپوں کے نرغے میں آگیا
اچھا ہوا کہ دل کے پھپھولے ہی جل گئے
موسم تو پھر شگفتہ نظارے میں آگیا
کچھ اس طرح سے اس نے سنایا غم حیات
ہر خاص و عام مجمعے کا سکتے میں آگیا
لہجہ ہوا خفیف تو محسوس کرلیا
میرا حریف بھی مرے لہجے میں آگیا
ایسا ہوا ہے گلشن الفت کا حال بھی
منصف بھی قاتلوں کے لبادے میں آگیا
راشد نے تیرگی میں جلائے ہیں وہ چراغ
ظلمت کا پاسباں بھی اجالے میں آگیا
