محمدسخاوت علی سخاوتؔ، حیدرآباد
خوشی کے گیت سنائیں گے ، سالِ نو آیا
محبتوں کو بڑھائیں گے سالِ نو آیا
کدورتوں کو مٹائیں گے سالِ نو آیا
گلے یوں سب کو لگائیں گے سالِ نو آیا
ہزار درد کے طوفاں گزر گئے سر سے
نیا مزاج بنائیں گے سالِ نو آیا
گزشتہ سال جو اٹھا تھا نفرتوں کا دھواں
اسی سے شمع جلائیں گے سالِ نو آیا
یہ دھوم ہے کہ سویرا قریب آیا ہے
اُجالا سب کو دِکھائیں گے سالِ نو آیا
ہر ایک لفظ میں ہو امن کا پیام کوئی
وہ گیت سب کو سنائیں گے، سالِ نو آیا
سخاوت ؔ آج زمانے میں شادمانی ہے
ملیں گے اور ملائیں گے، سالِ نو آیا
