عبدالرحمن راشد عمری
تیری یادوں سے جو آنکھوں کو ہی نم رکھتے ہیں
اس طرح اپنی عقیدت کا بھرم رکھتے ہیں
خاکساری کی چمک سے جو وہ سرشار ہوئے
اہل ثروت ہیں مگر سر کو بھی خم رکھتے ہیں
اہل توحید ہی مخلص ہیں فقط رب کے لیے
کتنے مسلم ہیں جو پہلو میں صنم رکھتے ہیں
خندہ پیشانی سے ملنا بھی ہے اک کار ثواب
پھر بھی غافل ہیں بشر ، ذوق جو کم رکھتے ہیں
یہ نئے دور کی ہے جنگ سو اس جنگ میں ہم
تیغ رکھتے نہیں ہاتھوں میں قلم رکھتے ہیں
ضبط غم ہی تو ہے معیار ہمارا راشد
آپ کے جبر کو بھی مثل کرم رکھتے ہیں
