اٹوابازار(سدھارتھ نگر): صبح نو بجے ذمہ دارانِ مدرسہ ، اساتذہ ، طلبہ و طالبات اور گاؤں کے بہت سارے مرد و خواتین مدرسہ میں جمع ہوئے ، تلاوتِ کلام پاک سے بزم کا آغاز ہوا ،پرنسپل حافظ صفی الرحمن فرقانی کے ہاتھوں پرچم کشائی کی گئی، بچوں اور بچیوں نے قومی گیت، ترانہ ہندی پیش کیا بعدہ حب الوطنی اور آئین ہند سے متعلق تقریر اور نظم پیش کئے۔
بچوں نے تقریر میں کہا کہ ہمارا دیش پہلے انگریزوں کا غلام تھا لیکن جب ملک کے جانباز سپاہیوں کی انتھک کوششوں سے 15 اگست 1947 کو آزدی ملی تو ہمارے پاس کوئی اپنا آئین نہیں تھا، بلکہ ہندستان میں جو قانون نافذ تھا، وہ انگریزوں کا بنایا ہوا تھا۔
 اس لئے آزادی کے بعد بھیم راؤ امبیڈکر اور ان کے ساتھیوں کی کوشش سے ہندستان کا آئین تیار کیا گیا جسے 26 جنوری 1950 کو لاگو کیا گیا اسی مناسبت سے ہم ہر سال 26 جنوری کو یوم جمہوریہ مناتے ہیں۔اور عہد کرتے ہیں کہ ہم آئین کی بالادستی کو برقراررکھیں گے، اور جو امیر و غریب، مختلف اقوام و مِلل کو حقوق دئے گئے ہیں اس کی پاسداری کریں گے۔تاکہ سماج میں سب سکھ اور چین کا سانس لے سکیں اور امن و امان کے ساتھ زندگی گزار سکیں ۔کوئی کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرسکے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب قانون کو بالادستی حاصل نہیں رہی ، لوگوں پر ظلم کیا جارہا ہے اپنی مرضی کی قانون سازی کی جاتی ہے۔ قانون صرف غریبوں اور برسراقتدر پارٹیوں کے مخالفین کے لئے رہ گیا ہے۔جبکہ قانون غریبوں کو ترقی دینے انھیں بھی سماج میں برابری کا حصہ دلانے کے لئے بنایا گیا تھا جو کہ اب دھیرے دھیرے عنقاء ہوتا جارہا ہے۔ آج ہمیں ان باطل طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر پھر سے کھڑا ہونے کی ضرورت ہے جو قانون کو نہیں مانتے ہیں ، تاکہ پھر سے سماج میں امن و سلامتی قائم ہوسکے اور لوگ ہنسی خوشی سے رہ سکیں ۔
پروگرام تقریبا ڈیڑھ گھنٹے چلا، پروگرام میں محمد اسلام صاحب، برکت اللہ صاحب عبدالمجید صاحب ،اصغر علی ،مظہر حسین ،آفتاب عالم ،راکیش یادو ارمان عدنان ممتاز ریحان وغیرہ شریک رہے، آخیر میں بچوں میں لڈو بھی تقسیم کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے