ظہیرآباد 8/مارچ (مشرقی آواز جدید): تلنگانہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معین نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی ایک خودمختار ادارہ ہے۔ جووزارت تلنگانہ حکومتِ اقلیتی بہبود (Ministry of Minority Welfare Government of Telangana)کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اُردو زبان، ادب و ثقافت کی ترقی اور ترویج ہے۔ اُردو کے طلبہ، محققین اور قلم کاروں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ یہ عظیم مقصد اکیڈمی کی سستی، کاہلی اور انتظامی غفلت کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ اکیڈمی کی سرکاری ویب سائٹ (https://urduacademyts.com/) کی پوسٹنگ کی معیاد ختم ہونے کی بنا پر یہ ویب سائٹ بند ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں تلنگانہ فریڈم فائٹرڈاکٹر جاں نثار معؔین نے ادبا ، محققین ، ناقدین اور معزز صارفین کی جانب سے ایک یاد داشت میل کے ذریعے پیش کی کیوں کہیہ مسئلہ محض تکنیکی نوعیت کا نہیں ہے، بلکہ یہ اکیڈمی کی انتظامی غفلت اور نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ اس افسوسناک صورتِ حال نے اُردو زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو ایک قیمتی ذریعہ معلومات سے محروم کر دیا ہے۔
ہم تلنگانہ حکومتِ اقلیتی بہبودسے مطالبہ کرتے ہیں کہ 15 مارچ سے قبل فیس ادا کر کے ویب سائٹ کو فوری بحال کیا جائے۔ ویب سائٹ کا طویل عرصے تک غیر فعال رہنا قیمتی علمی اور تحقیقی مواد کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔ ویب ہوسٹنگ کمپنیاں مقررہ مدت کے بعد غیر ادا شدہ اکاؤنٹس کا ڈیٹا مستقل طور پر حذف کر دیتی ہیں، جس سے اُردو ادب، تحقیق اور ثقافت سے متعلق نادر مواد اور اہم معلومات ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہیں۔ ویب سائٹ کا ڈومین (urduacademyts.com)بھی کسی اور کے نام رجسٹر ہو سکتا ہے، جسے واپس حاصل کرنا نہایت مشکل اور مہنگا ہوگا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ فوری طور پر فیس ادا کر کے ویب سائٹ بحال کیا جائے اور مستقبل میں ایسے مسائل سے بچنے کے لیے بروقت ادائیگی کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ تاکہ ویب سائٹ مستقل طور پر فعال رہے۔
قلم کاروں اور صارفین سے مؤثر رابطے کے لیے ایک منظم نظام قائم کیا جائے، تاکہ ان کی تجاویز اور شکایات کو بروقت سنا اور حل کیا جا سکے۔ رسائل کو ہر ماہ باقاعدگی سے آن لائن شائع کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین ان سے استفادہ کر سکیں۔مضمون نگارکو بروقت آگاہ کیا جائے کہ ان کے مضامین شائع کرنے کے لائق ہیں یا نہیں، تاکہ وہ اپنی تحریروں میں بہتری لا سکیں۔اکیڈمی کے میل ایڈریس (info@urduacademyts.com) پر متعدد بار رابطے کے باوجود قلم کاروں کو کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ ایڈیٹر سے رابطہ ہو بھی جائے تو مضمون کی کاپی ان پیج اردو میں مانگی جاتی ہے۔جب کہ یہ دور مصنوعی ذہانت کا ہے ۔ دنیا بھر میں یونی کوڈ وارڈ فارمیٹ میں قبول کیا جاتا ہے۔ ایسے صورت میں معمر ادبا ، خواتین اور معذورین اپنی کاوشوں کو شائع کروانے سے اکثر قاصر رہ جاتے ہیں۔ اس رویہ سے قلم کاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ اس غیر سنجیدگی کے مظاہرے سے بالخصوص۔اس نااہلی کے باعث اکیڈمی اُردو ادب کے فروغ میں اپنی ذمہ داریوں سے غافل نظر آتی ہے۔
تجاویز برائے اصلاح:ایک مؤثر شکایت سیل قائم کیا جائے جو صارفین اور قلم کاروں کی شکایات کو فوری طور پر حل کرے۔ویب سائٹ کی بروقت دیکھ بھال اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے ایک ماہر آئی ٹی ٹیم مقرر کی جائے۔اکیڈمی کے جملہ امور میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔ہم حکومت تلنگانہ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے پر فوری توجہ دیتے ہوئے تلنگانہ ریاستی اُردو اکیڈمی کی انتظامی نااہلی کا سخت نوٹس لیں اور مذکورہ بالا اقدامات کو عملی جامہ پہنائیں۔۔۔
