بیدر۔ 7؍مارچ (محمدیوسف رحیم بیدری): چیف منسٹر سدرامیا کے سال 2025-26 کے بجٹ میں اقتصادی اصلاحات اور بااختیار بنانے کی طرف کوئی جرات مندانہ قدم نہیں ہے۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر ایڈوکیٹ طاہر حسین نے بجٹ پر اپنی اس رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ سے عوام پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوا ہے اور یہ مایوس کن ہے۔انھوں نے مزیدکہاکہ سال 2024-25 میں ریاست کی آمدنی میں 10,000 کروڑ روپے کی کمی آئی ہے جس کی وجہ سے اخراجات میں بھی کمی آئیگی ۔وزیراعلیٰ سدرامیا کے ذریعہ پیش کردہ 16ویں بجٹ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس میں محکمہ تعلیم کی جانب سے نوجوانوں کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے کوئی واضح ویژن نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کے تحت دو لاکھ ستر ہزار خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے اور ریاست کو درکار یوتھ پالیسی کو لاگو کرنے کے لیے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، یہ ایک ایسا بجٹ ہے جس نے بے روزگاری کے مسئلے سے دوچار نوجوانوں کو فطری طور پر مایوس کیا ہے۔کل قرض میں 7,64,655 کروڑ (GSDP کا 25%) اضافہ ہوا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ حکومت معاشی دیوالیہ پن کی طرف بڑھ رہی ہے، محکمہ تعلیم، خواتین اور بچوں کے لیے فنڈز میں کٹوتی، خواتین اور بچوں کے تعلق سے تشویش کا اظہار کرنے پر مجبورہیں۔اس سال کے بجٹ میں آبپاشی، دیہی ترقی اور زراعت کے لیے الگ سے کوئی فنڈنگ نہیں ہے۔ اس لیے طاہر حسین ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ بجٹ عوام دوست بجٹ نہیں ہوگا۔
اقلیتی برادریوں کے لیے مایوس کن بجٹ: ۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات کی تشہیری تقریروں میں وزیر اعلیٰ سدرامیا نے وعدہ کیا تھا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو بجٹ میں اقلیتوں کو 10,000 (ہزار)کروڑ روپے دیے جائیں گے، لیکن کل پیش کیے گئے بجٹ میں انہوں نے4700کروڑ روپئے جاری کرنے کی بات کہی ہے۔ ریاست کی ایک کروڑ اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے، اس کے مطابق 7 ہزار کروڑتو دیاجاناچاہیے تھا۔ امام و موذن کا اعزازیہ 10 ہزاراور 8 ہزار ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے وزیراعلیٰ کے مجموعی بجٹ پر مایوسی کا اظہار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے