میربیدری، بیدر،کرناٹک
وہی رہیں گے، جو ہم تھے یارو، بُرانہ مانو
زمانے کو ہم بہم تھے یارو، بُرا نہ مانو
کبھی نہ بتلایا، ہاتھ اُٹھاکر دعائیں کی ہیں
ہمیں تمہارے ہی غم تھے یارو، بُرانہ مانو
تمہاری چاہت ہمیں میسر نہ دوستو تھی
یوں زندگانی میں غم تھے یارو، بُرانہ مانو
جو دختران ِ عرب کو پردہ سے لائے باہر
وہ لوگ زندہ عدم تھے یارو، بُرانہ مانو
جہاں کہیں سوچ لڑکھڑاجاتی ہے تمہاری
وہاں ہمارے قدم تھے یارو،بُرانہ مانو
جنہیں میسرنہ کھاناتھا، ڈھنگ کے نہ کپڑے
کہاں کسی سے وہ کم تھے یارو، بُرانہ مانو
بلند ہاتھ اپنے کرکے اک احتجاج ٹھوکا
گوہاتھ سب کے قلم تھے یارو ، بُرانہ مانو
تمہیں بھی تاریخ کاپتہ ہوناچاہئیے میر
بتوں کے ہم بھی صنم تھے یارو،بُرانہ مانو
