سماجی خدمت کے تئیں بہوگنا کی فکر آج بھی متعلقہ ہے: ڈاکٹر عمار رضوی

لکھنؤ، (ابوشحمہ انصاری): آئی سی پی آر ڈی کے تعاون سے نیشنل یوتھ فاؤنڈیشن اور ہیم وتی نندن بہوگنا اسمرتی سمیتی کے زیر اہتمام آزادی کے مجاہد اور سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی ہیم وتی نندن بہوگنا کی برسی کے موقع پر دو روزہ مفت چشمہ و عمومی صحت کی جانچ کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام سنسکرت پاٹھ شالا بالیکا انٹر کالج، کینٹ احاطہ میں منعقد ہوا، جس کا افتتاح اترپردیش اسمبلی کے اسپیکر ستیش مہانا، سابق رکن پارلیمان و وزیر ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی، اور ہیم وتی نندن بہوگنا اسمرتی سمیتی کے صدر و اترپردیش حکومت کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی نے کیا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا کہ سماجی بھلائی کے لیے ایسے پروگرام نہایت قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آنجہانی ہیم وتی نندن بہوگنا کی برسی کے موقع پر منعقدہ یہ دو روزہ مفت طبی و چشمہ کیمپ ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ خود بہوگنا کی کابینہ کے رکن رہ چکے ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ہیم وتی نندن بہوگنا کی شخصیت اور ان کے نظریات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ کانگریس کے رہنما تھے، لیکن ان کے دروازے تمام جماعتوں، مذاہب، ذاتوں اور برادریوں کے لوگوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔ وہ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار رہتے تھے اور صبح پانچ بجے ہی عوام سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیتے تھے۔
ڈاکٹر رضوی نے مزید کہا کہ جب وہ وزیر تعلیم تھے، تب بہوگنا نے ایک ہی دن میں گڑھوال یونیورسٹی، کماؤں یونیورسٹی، روہیل کھنڈ یونیورسٹی، بندیل کھنڈ یونیورسٹی، اور اودھ یونیورسٹی کے قیام کا حکم جاری کیا تھا۔ اس کے علاوہ، اترپردیش حکومت کے ذریعے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے منظم نظام کا خاکہ بھی بہوگنا نے ہی منظور کیا تھا، تاکہ اساتذہ کو انتظامیہ سے تنخواہ حاصل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات سے نجات مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ بہوگنا کی شخصیت پورے ملک کے عوام کو متاثر کرنے والی تھی۔ ایسے عظیم رہنما بہت کم ہوتے ہیں، جن کی خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جاتی ہیں۔
مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ آج کی سیاست کو ایسے ہی زمینی لیڈروں کی ضرورت ہے، جو آسمان کی بلندیوں تک پہنچنے کے باوجود زمین سے جڑے رہیں اور عوام کے مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں۔
پروگرام کے اختتام پر انہوں نے مہمانِ خصوصی ستیش مہانا، ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی، منتظمین، معالجین، اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے