ختیجہ بیگم

یہ درد کی شب ہے یا ہے سحر کا پیام؟
کہ آنکھوں میں اشکوں کا ہے ازدحام
وہ چہرہ جو تھا نور کا اک نشان
نظر ڈھونڈتی ہے وہی سائبان
تری گود تھی جیسے جنت کی راہ
تری دعا سے کٹیں غم کی باہ
وہ ہاتھ جو اٹھتے تھے میری خبر
بنے تھے میرے حق میں ہر دم سپر
تری یاد ہے مثلِ بادِ صبا
جو آئے تو چھا جائے غم کی فضا
تری باتیں تھیں روشنی کا چراغ
تری مسکراہٹ تھی راحت کا باغ
میں نے کفن میں تجھے جب سجایا
لگا جیسے سورج نے رخ کو چھپایا
تری آخری صدا تھی جیسے اذان
سلطان کو پکارا تو لرزے مکان
اب کون لے گا وہ میٹھا خطاب؟
اب کون دے گا دعاؤں کا باب؟
تری ممتا کا سایہ جو تھا بے مثال
وہ چھوٹا تو دنیا لگی پائمال
خدایا! میں تنہا ہوں، بے سہارا
جو چاہوں بھی، پہنچے نہ دل کی صدا
تری یاد ہے میرے دل کا جہاں
میری پیاری امی جان!
میری پیاری امی جان!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے