گوہر نایاب،عبقری عصر، مردم ساز ومردم شناس، زبان وادب کا نقاد، ادب اسلامی و پیام انسانیت کا بانی وموسس،عربی واردو زبان پر یکساں دسترس رکھنے والی شخصیت، زبان وقلم کا بادشاہ،درجنوں اکیڈمیوں کا صدروممبر،سیکڑوں کتابوں کا مصنف،اپنے زمانہ کامجدد، مفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ سے مجھے پہلی مرتبہ ملاقات کا شرف دارالعلوم ندوۃ العلماء میں طالب علمی کے زمانے میں ۱۹۶۵ء میں حاصل ہوا، اس وقت میں جامعۃ الرشاد شہر اعظم گڑھ میں عربی کی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد درجہ پنجم عربی ندوہ میں داخل ہوا تھا، اس سے پہلے بلکہ سب سے پہلے ندوۃ میں داخلہ لینے کے بعد مشفق ومحسن استاد حضرت مولانا سعیدالرحمن اعظمی ندوی سے میرا تعلق قائم ہوا، اور حضرت ہی نے مجھے ناظم دارالعلوم ندوۃ العماء کے قریب کرنے کی کوشش کی،پھر حضرت کی خدمت میں میری آمدورفت شروع ہوگئی بعض مرتبہ میری باز پرس بھی ہوئی کہ تم مہمان خانہ میں کیسے آگئے؟ کیونکہ اس وقت مجھ جیسے نوعمر طالب علموں کے لئے بغیر کسی روک ٹوک کے ناظم ندوۃ العلماء سے ملاقات کچھ آسان نہ تھی،مگر جب معلوم ہوا کہ حضرت نے خود طلب فرمایا ہے تو پھر کوئی روکنے یا ٹوکنے کی جرأت نہ کرسکا،جب بھی معلوم ہوتا کہ حضرت ندوہ تشریف لا چکے ہیں تو میں اپنے اسباق چھوڑ کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا، اور استفادہ کرتا، اگر کبھی مجھے حضرت کی آمد کی اطلاع نہ ہوتی تو حضرت خود ہی طلب فرمالیتے، یہ میرے لئے بڑی سعادت کی بات تھی کہ حضرت کی توجہ مجھ کو حاصل رہی، حضرت کبھی کبھی عربی اخبارات پڑھنے کا بھی حکم فرماتے ،بلا جھجھک حضرت کو عربی اخبارات پڑھ کر سناتا، حضرت خوش ہوتے اور دعائیں دیتے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا،سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حضرت کو اللہ تعالیٰ نے مقبولیت کے ساتھ محبوبیت کی دولت سے بھی بھرپور سرفراز فرمایا تھا، حضرت کے اندر مال کی محبت قطعاً نہیںتھی جس کا اندازہ ان غیر معمولی ایوارڈ کی رقموں سے لگایا جاسکتا ہے جس کو حضرت نے بنفس نفیس قبول بھی نہیں فرمایا اور ساری رقمیں اہل مدارس کے درمیان تقسیم فرمادیں اور اپنی ذات یا دارالعلوم ندوۃ العلماء کے خزانہ میں ایک قرش بھی خرچ نہیں کیا،حضرت کو مجدد الف ثانی ؒ سے کافی مناسبت تھی بلکہ صحیح معنوں میں حضرت ان کے جان نشین تھے، اس مناسبت سے علامہ اقبال کا یہ شعر حضرت کی شان میںنقل کرتا ہوں ۔
ہندمیں وہ سرمایہ ملت کا نگہبان
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار
حضرت گوناگوں صفات کے حامل تھے ، حضرت نے بڑی حکمت عملی سے امت اسلامیہ ہندیہ کی رہنمائی فرمائی تو دوسری طرف عالم اسلام کو بھی ایک صحیح ومتوازن گائیڈ لائن عطا کیا اور ان کے لغزشوںپر سخت تنقید بھی کی ، یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ حضرت کو جتنا قریب سے عالم اسلام کی شخصیات، امراء، وزراء، اورشاہان مملکت کو دیکھنے اور پرکھنے کا موقع ملا اتنا شاید کسی ہندوستانی عالم دین کو نہ ملا ہو اسی لئے حضرت گاہے بگاہے فرمایا کرتے تھے’’میرے دیکھے ہوئے ہیں مغرب ومشرق کے میخانے‘‘۔
جہاں تک معاملہ ہندوستانی سیاست کا ہے تو حضرت نے ہمیشہ کنارہ کشی اختیار کی اور اپنے دامن کو اس سے ملوث نہیں ہونے دیا مگر جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں ارباب حکومت کوصحیح مشورہ دینے میں فراخ دلی سے کام لیا،اور ارباب حکومت نے اس کوخوش دلی سے قبول بھی کیا۔
مولانا احمد کمال عبدالرحمان ندوی
ناظم و بانی جامعہ رحمانیہ اسلامیہ
سیمرا ہردو ،کشی نگر،یوپی
