مجیب احمد مجیبؔ
زَر و دولت کمانا تھا، تمہیں دیکھا تو یاد آیا
نیا اِک گھر بنانا تھا، تمہیں دیکھا تو یاد آیا
لگا کر زخم پر مرہم، میں پٹّی باندھ آیا ہوں
نمک اُس میں ملانا تھا، تمہیں دیکھا تو یاد آیا
بٹھایا تھا جسے ہم نے ہمارے شاہی مسند پر
اُسے نیچے بٹھانا تھا، تمہیں دیکھا تو یاد آیا
تمہارے پاس تو مَیں ہوں، میسّر ہے تمہیں سب کچھ
میرا مشکل زمانہ تھا، تمہیں دیکھا تو یاد آیا
جہاں سے زخم کھا کر میں پریشاں ہو کے آیا تھا
وہاں زخم اور کھانا تھا، تمہیں دیکھا تو یاد آیا
بنا کر ہم نے رکھا تھا جو گھر اپنے تصور میں
وہ گھر ہم کو گرانا تھا، تمہیں دیکھا تو یاد آیا
جسے پاگل سمجھ کر ہم، گزار آئے تھے اک عرصہ
وہی اِک عادِلاَنہ تھا، تمہیں دیکھا تو یاد آیا
لکھی تھی جو غزل میں نے کسی کی یاد میں کھو کر
اُسے مل کر سُنانا تھا، تمہیں دیکھا تو یاد آیا
تمہیں دیکھا تو یاد آیا مُجیبؔ وہ ہجر کا عالم
جسے مجھ کو بھُلانا تھا، تمہیں دیکھا تو یاد آیا
