میربیدری، بیدر،کرناٹک

ہم نے کمال والوں کو دیکھاکمال ہے
اک دوجے سے خیال کاملنا کمال ہے

جسموں کا عشق دیکھئے کرتا کمال ہے
اک صبح بعد اندھیرا ہو، ایسا کمال ہے

پرجوش ہوکے دیکھ لیا، کچھ نہ کرسکے
خاموش گفتگوکا یہ لہجہ کمال ہے

یہ مادّہ پرست مگر کہہ رہے ہیں یوں
جس نے کہا، سہی کہا، پیسہ کمال ہے

دن ریڈیوکے لدگئے، اے آئی آگئی
اب پھر سے ریڈیو کوئی بجنا کمال ہے

ملت کی ممکنائی ترقی کے نام پر
دینے لگے ہیں چندے کا ڈبہ کمال ہے

ہاں زندگی سے دیکھ لیا لفڑاکرکے یار
پر، میر کا ہے کہناکہ جینا کمال ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے