سہارنپور(احمد رضا): خدا کے لئے مظلوم فلسطین کے عوام کے لئے ایک ساتھ کھڑے ہو کر ظالم سرکار کو اکھاڑ نیکا عزم لو جس قدر بھی ممکن ہو فلسطینی افراد کے لئے تعاون کے لئے ہاتھ بڑھاؤ انشاء اللہ یہ ملت اسلامیہ کی بڑی فتح ہوگی! ایران اسرائیل جنگ کے دوران جو کچھ بھی ہوا سبھی نے دیکھا اللہ رب العزت نے اسرائیل اور امریکہ کی حکومتوں کا ستر سال سے برقرار طاقت اور سپر پاور کا گھمنڈ مٹی میں ملا دیا یہ ہے*حکمت ربِ کائنات کی*  اس میں کچھ بھی شک و شبہہ نہی ہے کہ ایران کے میزائلوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کو نیست ونابود کر کے رکھ دیا لیکن اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی اسرائیل کی فوج غازہ اور خان يونس کے علاقوں میں مسلم آبادی کا اعلانیہ قتل عام کر رہی ہے اس قتل عام پر پوری دنیا بلخصوص مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یاد رہے وقت ہمیشہ کروٹ بدلتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی طاقت دنیا میں مستقل مسلط نہی رہا کرتی  صرف حکومت کا سربراہ بن جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے بلکہ بڑی بات یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکومت سونپی تو آپنے مخلوق کے لئے کیا کام انجام دیا آپ ملک کے سربراہ بنے بادشاہ مقرر ہوئے اور حاکم وقت بن گئے مگر عوام کے ساتھ اپنے کیسا سلوک یا برتاؤ کیا یہ معنی رکھتا ہے تخت نشین تخت سے اتر تے رہتے ہیں مگر ہمارے ذریعہ کیا گیا انصاف اور اچّھا سلوک ہمیشہ قائم و دائم رہتا ہے اسرائیل کی تباہی سے ہم اہل ایمان کو سبق سیکھنا چاہئیے! کربلا کا اصل واقعہ ہمیں یہ تلخ حقیقت سکھاتا ہے کہ صرف بادشاہت کا تخت سنبھالنا ، حاکم وقت مقرر ہونا ، حاجی بن جانا ،قرآن حفظ کر لینا، نمازوں کی پابندی یا ظاہری دینداری انسان کو “حق پرست” نہیں بناتی جب تک  کہ وہ شخص یا حکمراں” قرآن کریم کی تعلیم کے حسب منشا عدل کی خاطر، سچائی کے لئے اور مظلوم کی مدد اور حمایت کے لئے اس مظلوم کے ساتھ کھڑا نہ ہو تب تک کوئی بھی شخص یا حکم عادل ، منصف اور سچّائی کا علمبردار نہی ہو سکتا "یزید کی فوج میں ایسے افراد شامل تھے جو حافظِ قرآن اور نمازی تھے، جیسا کہ “عمرو بن سعد” جس کا ذکر علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں کیا۔ شیخ مفید نے الارشاد میں لکھا کہ کوفہ کے اکثر دین دار لوگ امام حسینؑ کے خلاف صرف اس لیے کھڑے ہوئے کیونکہ ان کے دل دنیا کی لالچ اور یزید کے خوف میں قید تھے۔ ابن جوزی نے تذکرۃ الخواص میں ان کی ظاہری دینداری کو نقاب قرار دیا۔ یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر ہم آج بھی عبادات تو کرتے ہیں، مگر ظلم پر خاموش ہیں یا ظالم کی حمایت کرتے ہیں، تو ہم بھی یزیدی لشکر کا حصہ ہیں — چاہے ہم حافظ یا نمازی ہی کیوں نہ ہوں۔ حسینؑ کا پیغام تلوار سے نہیں، کردار سے آیا: باطل کے خلاف آواز، سچائی کا ساتھ، اور ضمیر کی بیداری ہی اصل دین ہے۔۔ جب تک: • ہم حق اور باطل کو پہچان کر  صحیح فریق کا ساتھ نہ دیں• ظالم کے خلاف آواز بلند نہ کریں• اور مظلوم کا ساتھ نہ دیں تب تک ہماری دینداری محض دکھاوا بن جاتی ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے