بیدر۔ 24؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری): المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے زیراہتمام ’’بھارت کی تعمیر وترقی میں مسلمانوں کاحصہ‘‘ عنوان پر سہ روزہ قومی سیمینار (21تا23؍نومبر) حیدرآباد کے پہاڑی شریف میں واقع المعہد العالی الاسلامی کے احاطہ میں عمل میں آیا۔ افتتاحی نشست 21؍نومبرجمعہ کو بعدنماز عصرزیرصدارت مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی امیرشریعت تلنگانہ وآندھراپردیش منعقد ہوئی۔ خطبہء افتتاحیہ مولانا محمد سفیان قاسمی مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند نے دیا۔ جب کہ کلیدی خطبہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کارہا۔ دیگر علماء کے بھی خطابا ت رہے۔ 23؍نومبر بروزاتوار قومی سیمینار کی چوتھی نشست زیر صدارت ڈاکٹر راہیؔ فدائی بنگلور عمل میں آئی۔ جس کے مہمان خصوصی مولانا انیس الرحمن قاسی کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل تھے۔
جناب سید مقصود قومی صدر راشٹریہ مسلم مورچہ (ظہیرآباد) نے ’’بھکتی تحریک پر مسلمانوں کے اثرات‘‘ عنوان سے مقالہ پیش کیاجس میں بتایاگیاکہ ’’جس وقت بھارت میں اسلام داخل ہوا، اس وقت یہاں کا مروجہ ورن ویوستھا(ذات پات کا نظام) جو درحقیقت ویدک دھرم یا برہمن دھرم ہے ۔ جمہوریت کی آہٹ سنتے ہی ہندودھرم ہوگیا۔ آج کل اس کاپرچار سناتنی دھرم کے نام سے کیاجارہاہے‘‘ پھرانھوں نے ورن ویوستھا کے بارے میں حوالہ جاتی کتب کے ذریعہ معلومات پیش کیں ۔ بھکتی تحریک کے بارے میں بتایاکہ’’بھکتی تحریک اصل میں بھارت میں اسلام کی آمد سے سماج میں بڑی تبدیلی آنی شروع ہوئی تھی۔ دولت واقتدار سے زیادہ حقوق وعزت کے مارے محروم طبقات اسلام کی آغوش میں جانے میں عافیت سمجھنے لگے تھے۔ برہمنی نظام کے خلاف اس بغاوت کا نام ’’مکتی تحریک‘‘ (نجات کی تحریک) ہونا چاہیے تھا لیکن برہمنوں نے ’’بھکتی‘‘ کانام دے کر اس کی تلخی کو کم کرنے اور اسلام کی طرف جانے سے روکنے کے لئے بند کاکام کیا‘‘ پھر سید مقصود نے رامانجن چاریہ، لنگایت دھرم اور بسونا، سنت کبیر، سنت روی داس، گرونانک، یوگی ویمنا وغیرہ کا ذکر اپنے مقالہ میں کیا۔ جس کو باذوق افراد نے کافی پسند کیا۔
سید مقصود نے حوالوں کے ذریعہ بتایاکہ ’’بھارت میں اسلامی تعلیمات کے اثرات جیسے جیسے پھیلتے گئے ویسے ویسے یہ تحریک بڑھتی گئی اور ہر علاقہ اور زبان میں ایسے ہزاروں سنت پیداہوئے جنھوں نے اسلامی تعلیمات کو اپنا مشن بنالیا‘‘ تاہم یہاں ڈاکٹر امبیڈکر کی یہ بات فکرانگیز ہے کہ ’’اسلا م جہاں گیا وہاں دوتبدیلیاں ضرور ہوئیں ایک ستہ پریورتن (اقتدارمیں تبدیلی) اور دوسرا ویوستھا پریورتن (سماج میںتبدیلی)۔ بھارت میں ستہ پریورتن ہوا مگر ویوستھاپریورتن(سماج میںتبدیلی) کاکام مکمل نہیں ہوا۔ جس کو بدقستمی ہی کہا جاسکتا ہے‘‘۔ شہ نشین پر ڈاکٹر راہی ؔ فدائی اور دیگر مقالہ نگاران موجودتھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے