مصنف: عنایت اللہ بن کفایت اللہ خان فلاحی 8108451051

تبصرہ نگار : خبیب کاظمی قطر

قیمت: 225 روپئے

پبلیشر: منشورات دہلی

 برادر محترم عنایت اللہ خاں فلاحی صاحب کی تصنیف محسن مائیں ایک ایسا روشن چراغ ہے جو نہ صرف ماں کی عظمت، مقام اور کردار کی طرف روشنی ڈالتا ہے بلکہ قاری کے دل میں یہ جذبہ بھی پیدا کرتا ہے کہ ماں کے اثرات کی گہرائی اور اولاد پر ان کے اثرات کی وسعت کو سمجھا جائے اور محسوس کیا جائے۔ عنایت اللہ خان فلاحی صاحب نے جس نرمی، فکر اور محبت کے ساتھ ماؤں کی سیرت اور ان کے کردار کو جمع کیا ہے، وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔

 اسلام نے ماں کے مقام کو جس اعلیٰ درجے پر رکھا ہے، اس کی جھلک اس کتاب کے ہر صفحے سے محسوس ہوتی ہے۔ پیارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے” اور قرآن و سنت میں جا بہ جا ماں کی محبت، صبر اور قربانی کو اہمیت دی گئی۔ اس کتاب کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ اولاد کی تربیت، کردار سازی اور مستقبل کی کامیابی میں ماں کا کردار سب سے بنیادی اور فیصلہ کن ہے۔

 چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے

میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

(منور رانا)

یہ شعر اس بات کی خوبصورت تصویر ہے کہ ماں کی موجودگی اور اس کی شفقت میں ہی جنت کی جھلک ہے۔

سابقہ امتوں کی ماؤں کے تذکرے

 کتاب میں سابقہ امتوں کی ماؤں، جیسے حضرت ہاجرہؓ (ام اسماعیل)، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ، حضرت مریمؓ کی والدہ، اور حضرت سلیمانؑ کی والدہ کے واقعات میں نمایاں طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان ماؤں کی تربیت نے انبیاء کرام کو ایمان، صبر، استقامت اور قربانی کی اعلیٰ صفات عطا کیں۔

حضرت ہاجرہؓ کے توکل اور صبر نے حضرت اسماعیلؑ کو صحرائے عرفات میں اللہ پر مکمل اعتماد کرنا سکھایا۔

حضرت مریمؓ کی پاکدامنی اور اللہ پر یقین نے انہیں وہ عظیم شخصیت بنایا جو معجزات کی حامل بنیں۔

یہ سبق آج کے معاشرے کے لیے بھی لازمی ہے کہ ماں کے کردار اور تربیت کے بغیر کوئی بھی اعلیٰ کردار پروان نہیں چڑھ سکتا۔

دور نبوی کی ماؤں کا تذکرہ

 حضرت خدیجہؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت صفیہ بنت عبد المطلبؓ، حضرت ام ہانیؓ، حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ اور دیگر ماؤں کے واقعات ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ دین، علم اور حریت کی مضبوط بنیادیں ماں کی تربیت سے ہی استوار ہوتی ہیں۔

 حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایمان، بصیرت، سخاوت اور وفاداری کی اعلیٰ مثال ہیں۔ آپ نہ صرف پیارے نبی ﷺ کی بہترین بیوی اور مشیر تھیں بلکہ بچوں کی تربیت میں بھی ایک مثالی ماں تھیں۔ آپ نے اپنی عقل، محبت اور عملی بصیرت سے بیٹی فاطمہ الزہراء اور دیگر اولاد کی تعلیم و تربیت کی، انہیں اللہ کی رضا کی راہ پر لگایا۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

"اللہ کی قسم! مجھے خدیجہ سے اچھی بیوی نہیں ملی۔ وہ ایمان لائی جب سب لوگ کافر تھے، اس نے میری تصدیق کی، اپنی دولت قربان کی اور اللہ نے مجھے اس سے اولاد دی "۔ حضرت خدیجہؓ کا گھر جہاں نبی ﷺ کے لیے پناہ، سکون اور تحریک اسلامی کا مرکز تھا، وہیں آپ کی تربیت، سخاوت اور قربانی نے بچوں کی شخصیت اور ایمان سازی کی بنیاد رکھی۔

حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے بچوں میں غیرت، جرأت اور تقویٰ کے جذبے پیدا کیے جو بعد میں صحابۂ کرام کے عظیم کردار میں نظر آئے۔

یہ ماؤں کی قربانی، استقامت اور ایمان کا بہترین عملی مظہر ہے جو آج بھی ہر ماں اور والدہ کے لیے مثالی نمونہ ہے۔

حضرت خنساء بنت عمروؓ ایک عظیم ماں کی زندہ مثال ہیں۔ اپنی کم سن اور ضعیف الجسم حیثیت کے باوجود ایمان قبول کیا اور اپنی زندگی دین کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔ اپنی بصیرت، وفاداری اور بے خوف جذبے سے انہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی راہ میں تربیت دی۔ جب چاروں بیٹے میدانِ جنگ میں شہید ہوئے، تو انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا:

"الحمد لله الذي شرفني باستشهادهم، وإني أسأل الله أن يجمعني معهم في مستقر رحمته.”

یعنی: "تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اپنے بچوں کی شہادت سے مشرف فرمایا، اور میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ مجھے ان کے ساتھ اپنی رحمت کے سائے میں جمع کرے۔”

حضرت خنساءؓ نے اپنے دل کے دکھ اور محبت کو صبر و رضا میں بدل کر اللہ پر کامل توکل کی عملی مثال قائم کی۔ ان کا روشن کردار قیامت تک کی ماؤں کے لیے سبق ہے کہ ماں کا ایمان، قربانی اور تربیت ہی نسلوں کی کامیابی، دین کی سربلندی اور امت کی عزت کی بنیاد ہے۔

دور نبوی کے بعد کی عظیم مائیں

 امام شافعیؒ، امام بخاریؒ، امام احمدؒ، علامہ اقبالؒ، مولانا مودودیؒ، سید قطبؒ اور دیگر مجاہدین و مفکرین کی ماؤں کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ماں کی تربیت دور حاضر کے مفکرین، مصلحین اور قائدین کے کردار کی بنیاد ہے۔

مولانا مودودیؒ کی والدہ رقیہ بیگم کی تربیت نے انہیں ایک مضبوط فکری اور عملی قائد بنایا جو دین کی خدمت اور امت کی رہنمائی میں مشہور ہوئے۔

علامہ اقبالؒ کی والدہ امام بی بی نے ان کے دل میں وطن، دین اور فکری استقلال کے جذبات کو پروان چڑھایا۔

سید قطبؒ کی والدہ نے بیٹے میں فکر و عمل کی ہم آہنگی پیدا کی، جو بعد میں اسلامی تحریک کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی۔

یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ ماؤں کا کردار صرف گھریلو یا ذاتی نہیں بلکہ تاریخی، فکری اور سماجی اثر رکھنے والا ہے۔

دور جدید اور برصغیر کی محسن مائیں

 ہند و پاک کے مجاہدین، علماء اور انقلابی شخصیات کی ماؤں نے بیٹوں کو قربانی، ایمانی بصیرت اور علمی روشنی عطا کی۔

ام ٹیپو سلطان، ام سر سید احمد خان، مولانا ابو الحسن علی ندوی کی والدہ خیر النساء، اور دیگر ماؤں کی تربیت نے اولاد کو محض اعلیٰ کردار ہی نہیں بلکہ قومی، دینی اور فکری مشعلِ راہ بنایا۔

کتاب کا یہ حصہ بھی آج کے قاری کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ماں کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ قوم اور امت کے مستقبل تک پھیلا ہوا ہے۔

محسن مائیں نہ صرف ماں کی عظمت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس کے تربیتی اثرات کو تاریخی اور معاصر شخصیتوں کے تناظر میں واضح کرتی ہے۔ یہ کتاب قاری کے دل میں جذباتی وابستگی پیدا کرتی ہے، شعور بیدار کرتی ہے، اور ایک انتہائی مؤثر تربیتی پیغام دیتی ہے:

"اگر قوم کی اصلاح مقصود ہے تو بچوں سے پہلے ماؤں کی تربیت اور فکری استقامت ناگزیر ہے۔”

یہ کتاب اسلوب کے لحاظ سے نرمی، محبت، اور جذباتیت کے ساتھ ساتھ علمی قوت بھی رکھتی ہے۔ ہر صفحہ قاری کو یہ یاد دلاتا ہے کہ ماں کی گود، اولاد کے لیے پہلی درسگاہ اور تربیت گاہ ہے، اور اسی سے مستقبل کے روشن ستارے پیدا ہوتے ہیں۔

 کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس نے تاریخ کے مختلف ادوار کی محسن ماؤں کو جمع کر دیا ہے، تاہم اگر آئندہ ایڈیشن میں جدید دور کے چند اکابر، مثلاً سلطان صلاح الدین ایوبیؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، اور بعض عالمی تحریکوں کے بانیوں کی ماؤں کے تربیتی پہلو بھی شامل کر لیے جائیں تو یہ کتاب عصرِ حاضر کے قاری کے لیے مزید قابلِ ربط اور مؤثر ہو سکتی ہے۔

 زیرِ نظر کتاب "محسن مائیں” ہر گھرانے، ہر ماں اور ہر والد کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہے، جو بصیرت، فکری رہنمائی اور جذباتی سکون عطا کرتی ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے یقین مضبوط ہوجاتا ہے کہ ماں کی محنت، قربانی اور بصیرت ہی نسلوں کی کامیابی کی سب سے پائیدار بنیاد ہیں۔

محترم عنایت اللہ خان فلاحی صاحب کی یہ کاوش تاریخ، ادب، تربیت اور ایمان کا حسین امتزاج ہے، جو ہر دور کے قاری کے لیے درس و عبرت اور دل کی تسکین کا ذریعہ ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ماں کی عظمت کو سمجھنے اور اس کی قدر کرنے والا بنائے، اس کتاب کو قاری کے لیے افادے اور رہنمائی کا ذریعہ فرمائے، اور ہماری نسلوں میں ماں کی محبت اور تربیت کے اثرات ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے