صلاح الدین لیث المدنی
مرکز الصفا الاسلامی نیپال
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید سیاسی و عسکری کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ واقعات نے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بالخصوص ایران کی جانب سے خلیجی ممالک مملکت سعودی عرب قطر کویت اردن دبئی بحرین وغیرہ کے خلاف جارحانہ جابرانہ اقدامات اور عسکری سرگرمیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حساس تنصیبات اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں، جن میں تیل کی تنصیبات بھی شامل ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف متعلقہ ممالک کی خودمختاری کے خلاف ہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ خلیجی خطہ توانائی کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی بدامنی پوری دنیا کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ اختلافات اور تنازعات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ کسی بھی ملک کی سرزمین، تنصیبات یا عوام کو نشانہ بنانا بین الاقوامی اصولوں اور ہمسایہ داری کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔ بالخصوص جب حملوں کا رخ ایسے ممالک کی طرف ہو جو عالمِ اسلام میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، تو اس کے اثرات محض سیاسی نہیں بلکہ دینی و جذباتی بھی ہوتے ہیں۔
ہم اس موقع پر واضح الفاظ میں ہر قسم کی جارحیت، اشتعال انگیزی اور عسکری مہم جوئی کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ خطے کے تمام فریق دانشمندی، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو وسیع پیمانے پر تباہی اور خونریزی کا سبب بن سکتے ہوں۔
خطے کے اہم ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں، نہ صرف عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ اسلامی دنیا کے قلب کی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔ ان ممالک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا درحقیقت پورے عالمِ اسلام کے امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
سعودی عرب عالمِ اسلام کا مرکزی ملک ہے، جہاں حرمین شریفین واقع ہیں۔ اس سرزمین کے امن و استحکام سے کروڑوں مسلمانوں کے دینی جذبات وابستہ ہیں۔ لہٰذا اس کے خلاف ہر قسم کی عسکری کارروائی پوری امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ تشویش ہے۔کسی بھی اختلاف یا تنازع کا حل میزائلوں اور دھمکیوں میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع میں مضمر ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی محاذ آرائی سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر بروقت دانشمندانہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع وسیع تر جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں، معیشت اور علاقائی استحکام کو ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور بین الاقوامی قوانین اور ہمسایہ داری کے اصولوں کا احترام کریں۔
مزید برآں، عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کریں، تنازعات کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کریں اور کسی بھی ملک کو جارحانہ اقدامات سے باز رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔طاقت کا بے جا استعمال مسائل کو حل نہیں کرتا بلکہ انہیں مزید الجھا دیتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ کے امن کا تقاضا ہے کہ تمام ممالک باہمی احترام، خودمختاری کے تحفظ اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو اپنائیں۔ ہم ہر قسم کی جارحیت اور تخریبی کارروائی کی مذمت کرتے ہیں۔
ہم خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت کے لیے استقامت، حکمت اور سلامتی کی دعا کرتے ہیں، اور ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود کے لیے توفیق، بصیرت اور کامیابی کی التجا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ملک و ملت کی خدمت اور خطے کے امن کے قیام میں مزید مضبوطی عطا فرمائے۔
ہم تمام خلیجی ممالک—متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان — کے لیے بھی دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت انہیں ہر قسم کے شر، فتنہ اور جارحیت سے محفوظ رکھے، ان کے عوام کو امن و سکون عطا فرمائے اور ان کے حکمرانوں کو عدل، حکمت اور اتحاد کی توفیق دے۔
اللہ تعالیٰ مشرقِ وسطیٰ کو ہر طرح کی جنگ و فساد سے بچائے، مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یگانگت پیدا فرمائے اور خطے کو پائیدار امن و استحکام نصیب کرے۔آمین یا رب العالمین۔
