احمدحسين مظاہریؔ
فخر الاسلام حضرت مولانا محمد احمد صاحبؒ کی ولادت نانوتہ ضلع سہارنپور میں ۲۷۹ھ مطابق ۱۸۶۲ء میں، حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے گھر ہوئی، یہ نورِ نظر بڑی آرزوؤں اور تمناؤں کے بعد حاصل ہوا تھا،ابتداءََ حضرت نانوتویؒ کے یہاں کئی صاحبزادیاں پیدا ہوئیں، حضرت نانوتویؒ کے والد صاحب شیخ اسد علی مرحوم کو لڑکے کی بڑی تمنا تھی، پانچ لڑکیوں کے بعد ۱۲۷۹ھ میں پہلے صاحبزادے حضرت مولانا محمد احمد صاحب پیدا ہوئے،جب دادا کولڑ کے کے تولد کی اطلاع دی گئی تو خوشی میں گیہوں کی کوٹھی کا منہ کھلوا دیا اور قصبہ نانوتہ کے فقراء میں کافی خیرات تقسیم کی اور خوشی منائی۔(بحوالہ : پچاس مثالی شخصیات /٨٥)
تعلیم و تربیت: حضرت نانوتویؒ جنہوں نے دیارِ ہند میں علم کی شمع فروزاں کرنے کی تحریک چلائی ،جن کا خیال تھا کہ مسلمانوں کی ذلت و پستی کا مداوا،علم کے کارآمد تریاق سے ہی کیا جا سکتا ہے،آپ یہ عزم لیکر اٹھے کہ مسلمان کا کوئی گھر علم کی روشنی سے محروم نہ رہے،اور آپ اور آپ کے جانشینوں نے بہت حد تک اس خواب کو شرمندۂ تعبیر بھی کر دیا،اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس عبقری شخصیت نے ہر مسلمان بچہ کے لیے یہ سنہرے خواب دیکھے تھے، اس کے دل میں اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کیسے جذبات امنڈ رہے ہوں گے،چنانچہ آپ نے حضرت مولانا احمد صاحب کی تعلیم و تربیت میں کسی مصلحت کو آڑے آنے نہیں دیا، اور بچے کی تعلیمی یکسوئی کو شروع سے ہی نظر سے دور رکھا۔۔
حضرت مولانا احمد صاحبؒ نے ابتدائی تعلیم گلاؤٹھی میں حاصل کی، آپ کتنے سال گلاؤٹھی میں رہے اور کن کن اساتذہ سے کسب فیض کیا، اس کی تفصیلات تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتی ہے،حضرت حکیم الاسلام محمد طیب صاحبؒ نے ابتدائی تعلیم کا ذکر کیا ہے،اور ابتدائی تعلیم مدرسہ کے عرف میں فارسی اور اول عربی اور دوم عربی تک کی تعلیم کو کہا جاتا ہے،اور یہ تعلیم دو تین سال میں مکمل ہو جاتی ہے،اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا احمد صاحبؒ کا زمانہ دو یا تین سال کا ہوگا،اور عمر کےبارہویں سال میں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کر لی تھی۔( عکس احمد /٥٢-٥٤)
تکمیلِ حدیث :مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت شیخ عبد الغنی مجددیؒ کے بحر ِعلم کے دو ایسے آبدارموتی ہیں، جن کی چمک دمک سے ہزاروں تشنگان علوم کے دل منور ہو گئے،جب ان میں سے ایک (حضرت نانوتویؒ) کے پاس موت کا بلاوا آیا، اور صدفِ لحد نے اس یگانۂ روزگار موتی کو اپنی آغوش میں لے لیا، تو طلبۂ علوم پروانہ وار دوسرے "یتیمۃ الدھر” موتی کی طرف ٹوٹ پڑے،دیو بند میں حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ شمع حدیث فروزاں کیے ہوئے تھے، مگر واسطہ کی کمی (جو ہر زمانے میں طالبانِ حدیث کا قیمتی مطلوب رہی ہے) طلبہ کو کشاں کشاں آستانۂ گنگوہی پر لے جاتی۔
ان ہی سعید طلبہ میں مولانا محمد احمد صاحبؒ بھی تھے،مولانا محمد احمد صاحبؒ نے تکمیلِ حدیث کیلئے ” گنگوہ "کا سفر کیا،ایک دیرینہ رفیق اور ہمدم و دمساز کے فراق کے بعد،اس کی یادگار اور لائق فرزند کو دیکھ کر ،حضرت گنگوہی کے دل میں جو جذبات موجزن ہوتے ہوں گے،کون ہے جو اس کا صحیح اندازہ لگا سکے،حضرت گنگوہیؒ نےبڑی شفقت و عنایت کا معاملہ فرمایا اور اجازت حدیث دی۔( عکس احمد /٥٧)
تدریسی خدمات : حضرت مولانا محمد احمد صاحبؒ نے ۳۰۰ ۱ھ میں سندِ حدیث سے فراغت حاصل کی،اس وقت آپ کی عمر تقریباً اکیس سال تھی،فراغت کے بعد آپ نے تدریس کو ترجیح دی،سب سے پہلے،”مدرسہ عربیہ” تھا نہ بھون پہونچے،جو حضرت نانوتویؒ کا ہی قائم کیا ہوا تھا، آپ نے وہاں بڑی تندہی سے تدریسی خدمات انجام دیں،تھا نہ بھون میں آپ تقریباً تین سال خدمات انجام دیتے رہے،. ۳٠٣اھ میں وہاں سے دیو بند بلائے گئے،اور دارالعلوم دیو بند میں مدرس ششم مقرر کیے گئے، تمام فنون کی کتابیں آپ سے متعلق تھیں؛ لیکن خصوصیت سے مشکوۃ شریف، مختصر المعانی،جلالین شریف، میرزاہد وغیرہ کتابوں کا درس بہت مشہور تھا۔(بحوالہ :مشاہیرعلمائے دیوبند،ص ٤٠-٤١)
حضرت حکیم الاسلامؒ لکھتے ہیں:جس سال مولانا احمد صاحب ؒ کے یہاں مشکوٰۃ شریف کے درس میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ،اور مولانا مبارک علی صاحبؒ جو بعد میں دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم بنانے گئے شریک تھے،اس سال مشکوۃ شریف خاص اہتمام سے پڑھائی اور ختم میں بھی خاص اہتمام فرمایا ختم کے دن حضرت ممدوحؒ، حضرت گنگوہیؒ کا وہ جبہ پہن کر درس کے لیے تشریف لائے،جو حضرت نے انہیں بطور سند و تبرک عطا فرمایا تھا،مولانا مبارک علی صاحبؒ کا بیان ہے کہ اس دن چہرے سے غیر معمولی وقار و تمکنت نمایاں تھا،اس سال حضرت محمدوحؒ کا درس دارالمشورہ ( دار الاهتمام ) میں ہوا تھا اور غیرمعمولی انداز کا تھا۔(بحوالہ: پچاس مثالی شخصیات /١٠٢)
جاری…..
