محمدیوسف رحیم بیدری ،بیدر۔ کرناٹک۔
۱۔ صحافی کی دُعا
اسکی یہی دُعا ہے کہ وہ اپنی موت والی خبر کا حصہ نہ بنے۔گذشتہ 35سال سے خبریں دیتے دیتے اس کو اپنے پیشہ سے نفرت ہوچکی تھی۔اوروہ اپنی کسی منفی خبر کی اشاعت سے وحشت زدہ رہاکرتاہے جن میں اس کی اپنی موت والی دردناک خبر بھی شامل ہے۔وہ چاہتاہے کہ اس طرح فوت ہوجائے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔
۲۔ الوافراد 
اُس کی کہانیوں میں عورت آٹے میں نمک کی مانند ہواکرتی تھی جسکی بناپرکہانیوں میں لطف تو آناچاہیے تھامگر اس کے قارئین کولطف نہیں آتاتھا۔ جس کااظہار وہ کسی نہ کسی طرح کردیاکرتے تھے۔ پرنتو اس کی کہانیوں کے ناقدین کاخیال تھاکہ ’’سوشیل میڈیا کے Pornسائٹ کے مارے الوافراد نے اس کی کہانیوں کوریجکٹ کیاہے لیکن وہ ہے کہ حوصلہ ہارے بغیر لگاتار نئے سے نئے انداز ،الفاظ ا ورموضوعات کے ساتھ کہانیاں لکھ رہاہے۔ عنقریب وہ ادب کاتاج اپنے سرپر رکھنے میں کامیاب ہوجائے گا، چاہے اس کے قاری اس کاساتھ دیں یانہ دیں‘‘
۳۔ مسٹرافسوس
’’مسٹرافسوس‘‘یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی مسرت کو کوئی جان سکے۔ اس لئے ساری عمرمسٹرافسوس نے پتہ لگنے ہی نہیں دیاکہ وہ کس بات پر خوش ہوتے ہیں۔ لوگ یہی سمجھتے رہے کہ مسٹر افسوس دراصل ایک اپوزیشن لیڈرہیں حالانکہ انھوں نے کسی خطرناک وائر س کی طرح برسراقتدار لوگوں کاکامیاب نقاب بننے میںخود بھی پوری مدد کی ہے۔اوراس کے لئے برسراقتدار افراد میں اپنی پوری نسل تیار کررکھی ہے جوملک بھر میں کہتی پھرتی ہے کہ اس ملک میں کچھ نہیںہے ، نوجوانوں کو بیرون ملک جاکر دولت کمانا چاہیے۔
۴۔ وہ منصوبہ بندہے  
کسی کافون نہ اٹھانا خوف کی نہیں ، منصوبہ بندی کی علامت ہے۔ سمجھاکرواور الرٹ رہو۔
۵۔ تاریخ میں درج قوم 
دنیاسے جانا بہترہواکرتاتھالیکن وہ لوگ دنیا میں رہنے کوترجیح دیتے تھے۔ اس لئے بزدل تھے۔ کسی بھی قسم کے ظلم کے خلاف انھوں نے آواز نہیں اٹھائی لیکن اس کے باوجود ان کانام تاریخ میں درج ہے۔آپ حیرت نہ کریں۔
فرق صرف اتناہے کہ یہ قوم تاریخ کی بزدل ترین قوم کہلائی اوراسی حوالے سے اس کانام درجِ تاریخ ہے۔
۶۔ نیکوں میں شامل
حرامی کوئی نہیں تھا، وہاںسبھی نیک تھے ۔اس کے باوجود برکتوں کاکوئی ظہور نظر نہیں آتاتھا۔کچھ پوچھاجاتاتو کہتے کہ پابندیاں ،تکالیف ، براوقت اچھے لوگوں پر ہی آتاہے۔
گویا وہ کہناچاہتے تھے کہ اچھے لوگ تکلیف میں گھرے رہتے ہیں۔ سو سبھی نیک ہیں۔لوگ انہیں نیک کہیں یا نہ کہیں وہ خود کو نیکوں میں شمارکرتے ہیں۔
۷۔ آئیں بائیں شائیں  
نمازوں کودائیں بائیں کرکے زندگی گزارنے والا’’ آئیں بائیں شائیں‘‘ جب فوت ہواتو ہزاروں افراد اس کے جنازے کے ساتھ چل رہے تھے۔سبھی کوحیرت ہوئی کہ یہ سب کیاہے ؟ کئی چھوٹے موٹے علماء دنیا سے گزرجاتے ہیں لیکن لوگوں کی اتنی کثرت جنازے میں شامل نہیں ہوتی ۔
ڈاکٹررفیعہ بی بی کوپتہ چلاتو اس نے کہا’’ ہوسکتاہے ، مرنے والے نے لوگوں کی مدد کی ہو۔ ایسے ہی کوئی جنازے میں شریک نہیں ہوتانا۔شریک افراد سے کچھ تو تعلق ضروررہا ہوگا‘‘ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے