سدھارتھ نگر: مشہور عالم دین اور بین الاقوامی سطح کے شاعر جناب ممتاز احمد عرف سالک بستوی کا تین فروری کو ایک سڈک حادثے میں انتقال ہو گیا۔ مرحوم علم و ادب کی دنیا میں ایک جانا پہچانا نام تھے۔ انہوں نے درجنوں کتابیں لکھیں اور ہر موضوع پر ان کا قلم بہت خوبصورتی سے چلتا رہا۔ خواہ وہ تبصرہ ہو یا شعر و شاعری، ان کی یاد میں گزشتہ شام ادبی تنظیم’ نئی آواز’ کی جانب سے فیض عام لائبریری میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مقامی شعراء نے ان کی تخلیق پر تبصرہ اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی اپنے اپنے کلام سے انہیں خراج عقیدت بھی پیش کی۔ اس موقع پر محمد فاروق اور مولانا عبدالاول ندوی نے مرحوم سالکؔ بستوی کے ساتھ بتائے اپنے تجربات بیان کیے۔ مولانا عبدالاول ندوی نے بتایا کہ سالکؔ بستوی کی ایک خاصیت تھی کہ وہ ہر خاص و عوام سے ہمیشہ مسکرا کر ملا کرتے تھے۔ ان کے چہرے پر کبھی کسی طرح کے رنج و غم کی کوئی لکیر نہیں دیکھی گئی۔
تعزیتی شعری نشست کا آغاز ڈاکٹر نوشاد اعظمی نے اس شعر سے کیا:
گہوارہ ادب کے سکندر تھے سالک بستوی،
تھے شوق فقیرانہ قلندر تھے سالک بستوی۔
کوی سنگشیل جھلک نے کہا:
درد میں جب اور کوئی درد ہی دیتا رہا ،
پھوٹ کر رونے کے سوا اور کیا ہوگا بھلا۔
ایڈوکیٹ شاداب شبیری:
وہ جو لکھتا تھا مرسیہ سب پر،
آج سب اس پہ مرسیہ لکھیں۔
ڈاکٹر فضل الرحمن’یاس’. نےانہیں یاد کرتے ہوئے کہا:
جی مانتا نہیں ہے کہ سالک نہیں ہو تم ،
کل جس جگہ ملے تھے نظر میں وہیں ہو تم۔
شو ساگر سحر:
حد سے زیادہ جو پریشان نظر آتا ہے ،
ہمیں وہ ٹوٹتا انسان نظر اتا ہے۔
ریاض قاصد:
بزم سخن کو چھوڑ کر ویراں چلا گیا ،
لوح و قلم کا تھا جو نگہبان چلا گیا۔
ڈاکٹر جاوید کمال نے کہا:
اردو معاشرہ کی ایک شان تھے سالک،
ہر خاص و عام میں اک پہچان تھے سالک،
مشکل سے ایسے لوگ ملا کرتے ہیں جاوید،
علم و ادب کا ایک گلستان تھے سالک۔
شعری نشست کی صدارت کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیل ٹیکس کمشنر جناب علیم الدین صاحب نے سالک بستوی کو شدت سے یاد کیا۔ انہوں نے کہا سالکؔ بستوی سے میری ملاقات بہت مختصر رہی لیکن اس مختصر سے وقفے میں انہوں نے اپنی شاعری کی چھاپ ان کے دل پر چھوڑ دی۔ یہ ان کی محبت ہی تھی کہ جب ان کا تبادلہ یہاں سے ہوا تو انہوں نے ان کے تبادلے پر ایک نظم ان کے حوالے کی جو آج فیض عام لائبریری میں ایک یادگار کے شکل میں رکھی ہوئی ہے۔ ہم ان کی کمی کو پورا تو نہیں کر سکتے لیکن ان کی یاد ہر نشست میں ہمارے ساتھ رہے گی۔
شعری نشست کی نظامت نوجوان کوی شیو ساگر سحر نے بڑی ہی خوبصورتی سے انجام دی۔ مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر کمال موجود رہے۔ اس موقع پر جناب اختر حسین، ڈاکٹر ابو شحمہ، فضل حق اور مولانا ابو الکلام کے ساتھ کئی معزز سامعین موجود رہے۔
