محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر۔ 
۱۔ مشن سرزمین ِ مقدس 
مقدس سرزمین میں بتوں کی واپسی کاآغاز وقت کے سیاسی قائدین کے مجسموں کی شکل میں ہونے جارہاتھا۔ بوڑھے افغان خیراللہ خان کو یہ اچھانہیں معلوم ہوا۔ اس نے اپنے چرواہافرزند نصراللہ خان افغان کو بلابھیجا۔’’اس سے کہوکہ میں بلارہاہوں‘‘ نصراللہ خان افغان بھاگتاہواآیا ، اس کی سانس پھول رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھاکہ اس کے والد نے اس کو جلد کیوں بلایاہے ؟ ابھی تک ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کہیں ان کاآخری وقت تو نہیں آگیا؟
بوڑھے افغان خیراللہ خان نے آگے بڑھ کربیٹے کو سینے سے لگالیا اور روتے ہوئے کہنے لگا’’نصراللہ خان ، تم ہمارا بیٹا ہے۔ ہم نے تمہیں لاڈوپیارسے اس لئے پالا ہے کہ تم اسلام کاسربلندکرسکو‘‘
’’جی بابا، میں جانتاہوں ، میں جانتاہوں ‘‘ نوجوان نصراللہ خان افغان نے جواب دیا۔ بوڑھے افغان نے کہا’’ دیکھو ، مقدس سرزمین میں بتوں کی واپسی کاراستہ سیاسی قائدین کے مجسمے لگاکر ہموار کیا جارہاہے ۔ تم اپنے بھائیوں اوردوستوں کے ساتھ اس مقدس سرزمین پر پہنچواوراس آنے والے شرک کے طوفان کا خاتمہ کردو، اب ہم قیامت میں ملیں گے بیٹا‘ ‘ یہ کہتے کہتے بوڑھے افغان کی چھلکتی ہوئی آنکھوں میں آنسو اچانک ہی خشک ہوگئے۔
  کہاجاتاہے کہنوجوان افغان نصراللہ خان اپنے بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ مشن کی تکمیل کیلئے  مقدس سرزمین کی جانب نکل چکاہے۔
۲۔ تھوڑے سے پیسے
رمضان کی آمد آمد تھی۔ اورماں سوچ رہی تھی کہ تینوں بچوں کو کپڑے کب سلیں گے؟ اس دفعہ ہر دس دن بعد بیمار ہونے کے سبب تنخواہ میں بھی کٹوتی ہوئی تھی۔ آج بڑے لڑکے نے پوچھ ہی لیاتھاکہ اماں! رمضان آرہے ہیں ، عید کے کپڑے کب بنائیں گی ؟وہ کوئی جواب نہ دے سکی۔ اس نے بچے کو تسلی بھی نہیں دی ۔ آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے۔
بیٹے نے آگے کہا’’اماں ! امبانی کابیٹاہزاروں کروڑ روپئے اپنی شادی پر خرچ کررہاہے ، اللہ ہمیں تھوڑے سے پیسے بھی کیوں دینا نہیں چاہتا؟ ‘‘ماؤں کے پاس جوابات اکثر نہیں ہوتے ۔ ماں پیاردے سکتی ہے اور بس ۔ وہی کچھ ہوا۔ لیکن بیٹا پھر بھی بہل نہ سکا۔
۳۔ حاضری رب کے پاس
دنیابھر میں افراتفری دیکھ ، سن اور پڑھ کر پریشانی میں اضافہ ہوچکاتھا۔ جس کی وجہ سے کمرمیں درد رہنے لگا۔ سر درد تو خبروں کوپڑھتے ہوئے ہمیشہ سے میرے ساتھ پہلے سے لگارہاہے۔پیرومرشد حضرت فائق علی شاہ گگن صابری کے پاس حاضری دے کرعرصہ ہواتھا۔ اس افراتفری کے دوران وہ بہت یادآرہے تھے۔ میں نے ان کے حضور پہنچناضروری سمجھا۔میں جب ان کے حضور پہنچاتووہ ہشاش بشاش اور سبھی سے با ت کرنے نظر آئے ۔ مجھے دیکھاتو خوشدلی کے ساتھ خوش آمدید اھلا وسہلا کہا۔ وہ اٹھ کر میرااستقبال کرنا چاہ رہے تھے۔ میں نے ان کو اٹھنے نہیں دیا اوران کی گود میں کافی دیرتک اپناسررکھ دیا۔اس دوران میں دوسرے سبھی وہاں سے ہٹادئے گئے۔
گود میں سررکھ کر جب تسلی ہوئی تو سامنے بیٹھ کرمعروضہ پیش کیاکہ حضرت ! دنیاکی پریشانی دیکھی نہیں جاتی ۔ حضرت نے آنکھیں موند کرکہا’’اسی کاکھیل ہے ،مگر تیری پریشانی جائزبھی ہے اور ۔۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہوگئے ۔ جملہ مکمل نہیں کیا۔ میں نے پوچھا’’اس دنیا کودیکھ کر نہیں لگتاکہ یہ دنیا میرے لئے ہے، ایسا کیوں ‘‘ حضرت نے صاف کہہ دیا ’’یہ دنیا تیرے لئے ہے نامیرے لئے ،البتہ اس کی ٹیڑھ کو سیدھی کرنے کی ذمہ داری ہم دونوں پرازل سے ڈالی گئی ہے۔ آگے پوچھ‘‘
میں نے آخری سوال کیا’’کیا میراپریشان ہونادنیا کے لئے ہے یا اُخروی فکر کی بنیاد پر میں پریشان ہورہاہوں؟ ‘‘  پیرومرشد حضرت فائق علی شاہ گگن صابری قبلہ  نے کچھ نہیں کہا۔ کافی دیرتک ہمارے درمیان خاموشی رہی۔پھروہ یوں گویاہوئے ’’اس چکر میں نہ پڑ، میری دعا ہے کہ تو اور میں دنیا سے اس حالت میں بلالئے جائیں کہ ہمارا جانا مسرت کی نوید کے ساتھ ہو‘‘میں پیرومرشد کے پاس سے چلاآیا تاکہ براہ دنیا واپس رب کے حضورپہنچ سکوں ۔
۴۔ بے قابو انسان 
  گرمی بہت تھی ۔ایسا لگ رہاتھاکہ جسم کے باہرہی نہیں جسم کے اندر معدے میں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔ اب تک وہ تین گلاس چھانچھ پی چکاتھا۔ پھر بھی معدہ قابومیں نہیں آرہاتھا۔ اس نے سوچا کہ ایک معدہ کوقابومیں نہ رکھ پانے والا انسان پورے ملک اور پوری دنیاکو چلانے کادعویٰ کرتاہوا اچھانہیں لگتا۔ دوست نے کہا’’یار !ڈاکٹر کودِکھالیتے ہیں ‘‘ اورپھر دونوں کلینک کی جانب چل پڑے۔
۵۔ نظریاتی تفریح  
وہ ادب کے ذریعہ دنیا پر چھاجاناچاہتاہے اور اس کے ساتھی ادب کو ایک تفریح کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔نتیجہ ڈھاک کے تین پات کی شکل میں برآمد ہوا۔ وقت گزرگیا۔ وہ اوراس کے تمام احباب عمرطبعی کوپہنچ کر بستروںسے لگ گئے اوران کے مقام پرنئی نسلیں براجمان ہوکر ادب کے کام میں جٹ گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے