روزِ محشر نعت کی اس شاعری سے دوستو
مجھ کو امیدِ شفاعت ہے نبی سے دوستو
ساری ساری رات آقا ان کی خاطر روئے ہیں
کس قدر الفت تھی اک اک امتی سے دوستو
لے نہیں جا پائی جو ہم کو مدینہ پاک یہ
اس لئے نالاں ہیں اپنی زندگی سے دوستو
آ گیا ہے راس ہم کو جب سے عشقِ مصطفٰے
روشنی میں آ گئے ہیں تیرگی سے دوستو
جو یتیم و بے سہارا اور دائی پالا تھا
ہم سبھی نے ہے اماں پائی اسی سے دوستو
کس لئے آخر یہ جاں پر کھیل جایا کرتی تھی
پوچھو اصحابِ نبی کی عاشقی سے دوستو
ہم گنہگاروں کی جو کر کے گئے ہیں مصطفٰے
ہو سکی وہ غمگساری کب کسی سے دوستو
مرحبا اس پر ہے ان کی کس قدر چشمِ کرم
نعتِ پاک آقا لکھاتے ہیں ذکی سے دوستو
      ذکی طارق بارہ بنکوی
   سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے