دعوت فکروعمل: انصر نیپالی
عید کا دن ہے مگر عید مناؤں کیسے
اے فلسطین! ترے غم کو بھلاؤں کیسے
عید کا چاند نظر آتے ہی دیکھا سب نے
تجھ کو بارود کے سائے میں دکھاؤں کیسے
ہر طرف ظلم کے پہرے ہیں بھری راہوں میں
ماں سے ملنے کیلئے آج میں جاؤں کیسے
عید کا دن ہے مگر گھر میں مرے فاقہ ہے
گھاس کی پتی بھلا روز کھلاؤں کیسے
عید کا دن ہے مگر لٹ گئیں خوشیاں ساری
بچھڑے ماں باپ کی صورت کو بھلاؤں کیسے
کوئی مجھ سے نہ کہے عید مبارک ہو تمہیں
ہاتھ بھی زخمی ہے سینے سے لگاؤں کیسے
اے فلسطین! تو مظلوم ہے مغصوب بھی ہے
جبر کی دنیا میں انصاف دلاؤں کیسے
دیکھ کر آنکھ بھی پتھرا گئی انصر میری
بے کفن لاشوں کو قبروں میں اتاروں کیسے
