- دیسی بکرے گاہکوں کی پہلی پسند
- دور دراز مقامات سے آئے تاجر اور خریدار
- عید الاضحی کی تیاریاں زور و شور سے جاری
سمریاواں، سنت کبیر نگر۔(رپورٹ محمد رضوان ندوی):
بستی منڈل کے مشہور بکرا منڈی میں پیر کی صبح سے ہی تاجر اور خریداروں کی بڑی تعداد سے بھری ہوئی تھی۔ صبح بعد نماز فجر سے لیکر دس سے گیارہ بجے تک منڈی میں گاہک موجود تھے اپنی پسند کے خوب بکرے خریدے۔
دیسی بکروں کی زیادہ مانگ ہے۔
سمریاوان میں واقع بکرا منڈی میں ہر پیر کو بازار لگتا ہے۔ یہ صبح سویرے شروع ہوتا ہے اور 10-11 بجے تک ختم ہو جاتا ہے یہاں پر سال بھر شادیوں، دعوتوں وغیرہ کے دوران بکرے خریدے جاتے ہیں۔ یہ بازار اپنے مقامی بکروں کے لیے پورے بستی منڈل میں مشہور ہے۔
بقرعید کے تہوار پر زیادہ ہجوم
عیدالاضحیٰ یعنی بقرعید کے موقع پر یہاں بہت زیادہ ہجوم ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی دیہاتوں سے پالے گئے بکرے بھی بڑی تعداد میں منڈی میں آتے ہیں۔ گاہکوں کی پسند دیہی علاقوں میں پالے گئے بکرے ہوتے ہیں۔
دور دراز سے تاجر اور گاہک آتے ہیں۔
اس بازار میں مختلف ضلع کے مختلف مقامات جیسے بستی، سدھارتھ نگر، فیض آباد، گورکھپور، بہرائچ گونڈہ، بارہ بنکی امبیڈکر نگر وغیرہ سے تاجر بڑی تعداد میں بکر ے لاتے ہیں ۔ساتھ ہی گانوں میں بکریاں رکھ کر اپنی روزی کماتے ہیں۔ اس موقع پر منڈی میں بڑے، سستے اور مہنگے بکرے فروخت کیے جاتے ہیں۔
اس منڈی میں خریداروں کی بڑی تعداد بکرے خریدنے کے لیے آتی ہے۔
بکرے کی قیمتیں مہنگی رہیں
پیر کو بکروں کی قیمت بہت زیادہ رہی۔ عیدالاضحیٰ میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے، بکروں کی خریداری میں تیزی آگئی ہے۔
منڈی میں آٹھ، دس ہزار سے لے کر تیس ہزار روپے تک کے بکرے دستیاب تھے۔ تیس ہزار روپے کے بکرے بڑی تعداد میں فروخت ہوئے۔ ساٹھ ہزار، پچاس روپے جوڑی کے بکرے بھی خوب فروخت ہوئے ایک گاہک نے بیک وقت کئی بکرے خرید اری کی۔
سال بھر کرتے ہیں خریداری کرتے ہیں دکان
مہسو بستی سے آئے ہوئے ایک تاجر شکیل احمد نے بتایا کہ یہاں کی منڈی میں بکریاں اچھی ملتی ہیں، لیکن دوسری منڈیوں سے یہاں بکرے مہنگے ہیں۔
مٹن کی دکان کے لیے خریدا ری کرتے ہیں۔ساتھ ہی تیوہار کے موقع پر تجارت بھی کر آمدنی کر لیتے ہیں۔ یہ بازار ضرورت کے مطابق مناسب ہے۔
یہاں کا بازار ممبئی جیسا ہے۔
عید الاضحٰی کے موقع پر ممبئی سے گھر آئے گاہک عبداللہ چودھری نے بتایا کہ یہاں بکروں کی قیمت ممبئی سے کم نہیں ہے یہاں بکروں کی بہت مانگ ہے۔ منڈی میں دیسی بکرے وافر مقدار میں فروخت ہو رہے ہیں۔لگتا ہے ممبئی کی مارکیٹ میں خریداری کر رہے ہیں۔ہر طرح کے بکرے بازار میں موجود ہیں۔سستے بھی ہیں تو منہگے اور بڑے بھی ہیں۔

پچاس سال سے یہاں لگتا ہے بازار
پیر کے دن ان تاجروں اور خریداروں کی کثیر تعداد کے بارے میں یہاں کے رہائشی
محمد مکرم، ظفیر علی، وسیم احمد، انوار عالم وغیرہ نے بتایا کہ 50 سال سے زائد عرصے سے یہاں پر بکروں کی منڈی لگتی ہے۔ دور دراز سے تاجر اور خریدار یہاں آتے ہیں۔ شادیوں اور بقرعید کے موقع پر یہاں بکرے کے تاجر اور خریدار کی بھیڑ بڑھ جاتی ہے۔
بکری پالن معاش کا ذریعہ بن گئی۔
محمد پرویز، نور عالم صدیقی، اطہر کرخی نے بتایا کہ دیہی لوگوں کی روزی روٹی کا ایک بڑا ذریعہ ہے ۔وہ بقرعید کے لیے سال بھر دو سال تک بکریاں پالتے ہیں۔ علاقہ کی خواتین میں بکری پالنے میں خاص دلچسپی ہے اس سے وہ اچھی آمدنی حاصل کرتی ہے۔اس سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
