سہارنپور( احمد رضا): دہلی کے ایک بھاجپا لیڈر پولیس کمشنر کے سامنے لاکھوں مسلم افراد کو قتل کر نے کی دھمکی دیتے ہیں تو غاز ی  آباد کے ایک مندر میں سنت نرسمہا آنند مسلم افراد پر حملہ کرنے کی تربیت دیتے ہیں یعنی کہ دس سال کی مدت میں جس قدر ظلم و ستم مسلم طبقہ کے افراد نے برداشت کئے ہیں انکو بار بار زباں پر لانے سے خد پر لعنت بھیجنے کو دل کرتا ہے کہ جس ملک کو ہمارے بزرگوں اور اکابرین نے جان مال لٹا کر آذاد کرایا اور مضبوطی عطا کی آج اسی ملک میں ہم پر اعلانیہ ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اور سبھی خاموش تما شائی بنے ہوئے ہیں آخر کیوں ؟ مسلم طبقہ کی بربادی کی شروعات اخلاق کے سفاکانہ قتل کے بعد اتر پردیش سے شروع ہوئی تھی فریج میں گائے کے گوشت رکھنے کے جھوٹے الزامات میں مسلم افراد کو گھیرنے کی سازشیں شروع ہو گئی تھی مسلم افراد اور مسلم سيا ست داں اور علماء کرام سرکار اور پولیس کو کوس کوس کر تھک ہار کر گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے مگر ہندو شدت پسند 2014 سے مسلم مخالف حسد اور نفرت کا زہر پی پی کر دانو بن گئے کل نا ہن میں انہی درندوں نے جاوید کی دکان کولوٹ کر تہس نہس کردیا اور اسی رات ان درندوں نے اخلاق کی طرح ہی فرید کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا مدھیہ پردیش کے راۓ پور میں تین مسلم نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا اور تلنگانہ کے میڈک علاقہ میں مسلم آبادی پر دن دھاڑے حملہ کرکے درجنوں افراد کو زخمی کرتے ہوئے مسجد اور گھروں پر توڑ پھوڑ کی اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی مسلم لیڈر شپ اور علماء کرام خاموش رہتے ہوئے تماشائی بنے ہوئے بیٹھے ہیں آخر حق کے لئے آواز اٹھانے میں ایک اہل ایمان کو خوف کس کا زندگی دینے والا اور موت دینے والا تو ربِ کریم ہے کیا تم قرآن مجید کی تعلیم کے خلاف جاکر دنیائے فانی کے آقاؤں سے خوف زدہ ہوکر چپ ہو یا تمہارا ضمیر مردہ بن گیا ہے تم سے لاکھ بہتر تو فلسطین کے مسلمانوں کے ضمیر ہیں کیونکہ وہ مٹ جانے کے بعد بھی اسرائیل کے خلاف سڑکوں پر ہیں اور اللہ کو اپنا کفیل اور محافظ تسلیم کر تے ہیں اسی کا نام لیکر زندہ ہیں اسی کا کلمہ طیبہ گن گناتے ہوئے جام شہادت پی رہے ہیں!الیکشن تو ہوگیا ہے ، حکومت بھی بن گئی ہے ، اب بھارت کے مسلمانوں کے سامنے کئی طرح کے چیلنجس ہیں اور یہ چیلنجس اگلے پانچ سالوں کے لئے نہیں بلکہ آنے والے 50 سالوں کے لئے ہیں ، عام طورپر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن میں مل بیٹھ کر مشورے کرتے ہوئے الیکشن میں کسی خاص پارٹی یا امیدوار کو جتانا ہی فرض ہے ، اگر حکومت آئے تو خوش اور نہ آئے تو ناامید ہونا مسلمانوں کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے ۔
درحقیقت بھارت کے مسلمانوں نے الیکشن کو ہی اپنی سماجی ، اخلاقی اور دینی ذمہ داری سمجھ رکھے ہیں اور انہوں نے اس کے علاوہ اور مسائل پر غور کرنا اہم نہیں سمجھا ۔مسلمانوں کو اب اپنے ہندو مسلم ، تعصب اور فرقہ وارانہ معاملات کے  روایتی مدعوں سے آگے ہٹ کر اپنے آپ کو خود کفیل بنانے کے لئے آگے آنے کی ضرورت ہے جس کے لئے مسلمانوں کو بہت ہی سوچ سمجھ کر کام کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کو الیکشن سے الیکشن تک فکر کرنے کے بجائے اگلے پچاس سالوں کے لئے قوم مسلم کے نوجوانوں کے لئے پلاٹ فارم تیار کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے سب سے اہم قدم تعلیم کے شعبے میں مسلمانوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔اپنے معاشرے یا اپنے علاقے میں غور کریں ، مسلمان اپنی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے کتنے فکر مند ہیں ؟۔ ویسے آج کل ہر کوئی اپنے بچوں کو اسکول یا کالج بھیج رہے ہیں لیکن ان بچوں کو مضبوط مستقبل دینے کے تعلق سے فکر کرنے والے نہ کہ برابر ہیں ۔ والدین تو اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجنیئر بنوانے کا عزم لے کر نکل رہے ہیں لیکن کیا مسلم سماج کے مسلمانوں نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ ہر بچہ ڈاکٹر یا انجنیئر نہیں بن سکتاہے ، اگر وہ ان شعبوں میں جانے سے ناکام ہوتا ہے تو اسکا مستقبل کیا ہوگا ؟۔ مسلمان اپنی نسلوں کی رہنمائی کے لئے نہ مراکز قائم کئے ہیں نہ ہی ایسے اداروں کی بنیاد رکھی ہے جس کا سہارا لے کر وہ آگے بڑھ سکیں ، معاشرے کے عمائدین اور اہل علم کا یہ کہنا ہے کہ مسلمانوں کی نسلیں تباہ ہورہی ہیں تو کیا کبھی اس بات پر غور بھی کیا گیا ہے کہ ان نسلوں کو تباہی سے بچانے کے لئے کیا کرنا چاہئے ؟۔ مسلمانوں میں جو لوگ مالدار ہیں ، صاحب حیثیت ہیں یا پھر باشعور ہیں وہ لوگ آخر قوم کی رہنمائی کے لئے عملی طورپر کیوں نہیں آرہے ہیں ۔جب تک حالات کو قابو میں لانے کےلئے مسلمانوں کے ذمہ دار آگے نہیں آتے اس وقت تک مسلمانو ں کی نسلیں تباہی کی جانب ہی جاتی رہیں گی ۔ الیکشن میں جس طرح سے سروں کو جوڑ کر ، مخالفین کو توڑ کرکام کیا جاتاہے اسی طرز پر حالات حاضرہ پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیا مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی ڈیٹا ہے جس میں مسلمانوں کے معاشی ، سماجی ، تعلیمی حالات کا جائزہ لیا گیا ہو؟۔ کتنے بچے ڈراپ آئوٹ ہیں ، کتنے اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ، کتنے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیکا ر ہیں ، کتنے نوجوان روزگار میں رہ کر کس حال میں ہیں ، اگر وہ روزگار میں ہیں تو سماج کے لئے ان سے کیا کام لیاجاسکتا ہے کیا ان باتوں پر غور نہیں کیا جاسکتا کیا ان چیزوں کا ڈیٹا مسجد وار یا علاقہ وار حاصل کرتے ہوئے منصوبہ نہیں بنایا جاسکتا؟۔ دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے اور انکی اعلانیہ مخالفت سے پرہیز کریں خد کو ان سے زیادہ مضبوط اور مستحکم بنانے کی کوشش کریں اور مسلم  آبادی کے مستقبل کے تعلق سے کام کرنا شروع کریں ، یہ کام آج کیلئے نہیں بلکہ کل کیلئے کرنا ہے تاکہ آنیوالی نسلوں کو فائدہ پہنچا يا جا سکے !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے