ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا
جو مجھ سے کرتا رہا پیار اب کہاں میرا
وہ میرا یارِ وفادار اب کہاں میرا
تو کس طرح سے بنائے گا پر کشش اس کو
تری کہانی میں کردار اب کہاں میرا
میں کیا کروں بھلا اوصافِ یوسفی لیکر
بچا ہے کوئی خریدار اب کہاں میرا
تو کیسے مجھ سے یہ ہوتی ہے نت نئی تخلیق
حمایتی کوئی فنکار اب کہاں میرا
اگر خوشی نہیں تو غم کا آشیانہ بنا
وجود رہ گیا بےکار اب کہاں میرا
اٹھا رہا ہے کوئی اور فائدہ اس کا
کہ وہ درختِ ثمردار اب کہاں میرا
دیا ہوا تھا کبھی رب نے جو مرے مجھ کو
وہ طُمطُراق وہ پندار اب کہاں میرا
اجل مجھے لئے جاتی ہے قبر کی جانب
مرے عزیز یہ سنسار اب کہاں میرا
مجھے اجل نے مری ماں سے کر دیا محروم
جہاں میں کوئی طرفدار اب کہاں میرا
بجائے آب جسے خوں سے سینچا تھا میں نے
وہ لالہ زار وہ گلزار اب کہاں میرا
