ڈاکٹر شارب رضوی مورانوی
قیام پذیر بارہ بنکی
موت کا رقص ہے غزہ کے گلی کوچوں میں
ظالموں کی یہ روِش عام ہوئی جاتی ہے
چھوٹے بچّوں کو یہاں دودھ کی شیشی کے عوض
گولیاں ملتی ہیں اب بھوک مٹانے کے لئے
اب کہاں ہے وہ زمانے کی گھنؤنی تنظیم
جو تحفّظ میں نکل آتی تھی حیوانوں کے
اب کہاں ہیں وہ علمدار حقوقِ انساں
دیکھ لیں اپنی نگه سے ستمِ اہلِ یہود
وحشیوں کی طرح کرتے ہیں جو حملے پیہم
جس میں پستی ہے ہر اک بار یہ مظلوم عوام
زندہ رہنے کے لئے جسنے بنائے تھے مکاں
وہ مکاں اب یہاں مسمار ہوئے جاتے ہیں
شعلے اُٹھتے ہیں مکانوں سے جہنّم کی طرح
قبریں گلیوں میں ہی آباد ہوئی جاتی ہیں
وقتِ حاضر کی یہ تصویر بدل دو بڑھ کر
توڑ دو اپنے ہی ہاتھوں سے ستمگر کی کمر
الاماں کہہ کے یہ بھاگے گا یہودی لشکر
تب کہیں تمکو کہا جائیگا غزہ کا پسر
لیکن ہم عید کا دن سمجھیں گے شارب اُس روز
خون کا قطرہ نہ ٹپکے گا زمیں پر جس روز
