پرویز یعقوب مدنی 

خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال 

 

اللہ رب العالمین نے ہمیں جس چیز کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جس بات پر ابھارا ہے وہ ہے اللہ رب العالمین سے دعا کرنا اور اس کے سامنے اپنی طلب رکھنا اللہ تعالی فرماتا ہے: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} [غافر : 60]

ترجمہ: اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر اعراض کرتے ہیں۔ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔

ایک دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے: {ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ [الأعراف: 55، 56]۔

ترجمہ: (لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور اللہ سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔

ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے: {وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ [الأعراف : 29] اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے۔

اللہ رب العالمین نے اس بات کی بھی خبر دی ہے کہ وہ پکارنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ} [البقرة : 186]۔

اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں۔

اسی طرح فرمایا: {أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ} [النمل : 62]۔

بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے۔

صحابی رسول جناب ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ اللہ رب العالمین نے فرمایا: يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ.

اے میرے بندو! بے شک میں نے اپنے آپ پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے تو تم آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو. اے میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں تو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا. اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں تو تم مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھانا دوں گا اے میرے بندو تم سب کے سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہنا دوں تو تم مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں لباس پہناؤں گا اے میرے بندو تم سب رات و دن خطاؤں کا ارتکاب کرتے ہو اور میں سارے کے سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہوں تو تم مجھ سے مغفرت طلب کرو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔

دعا کے کچھ آداب، کچھ احکام اور کچھ ایسے اوقات ہیں جن میں دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ چنانچہ دعاء سے پہلے جو چیزیں مستحب ہوتی ہیں اور جن سے دعاء قبول ہونے کی امید ہوتی ہے وہ اللہ تعالی کی حمد و ثنا اس کی کبریائی اور بزرگی بیان کرنا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنا ہے جیسا کہ صحابی رسول جناب فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا جس نے اللہ تعالی کی کبریائی بیان نہیں کی تھی اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے جلد بازی مچائی پھر اسے بلایا تو آپ نے اسی سے یا کسی اور سے کہا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اللہ تعالی کی حمد و ثنا اور بزرگی سے شروع کرے پھر اس کے نبی پر درود پڑھے پھر اس کے بعد جو چاہے دعاء کرے۔

جناب امام نووی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ اس بات پر علماء امت کا اجماع ہے کہ دعاء کی ابتدا اللہ تعالی کی حمد و ثنا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود سے کرنا مستحب ہے اسی طرح سے حمد و ثنا اور صلاۃ و سلام پر دعاء کا اختتام کرنا بھی مستحب ہے۔

باری تعالیٰ ہمیں دعاء کی اہمیت سمجھنے اور سنت کی روشنی میں دعائیں کرنے والا بنادے، آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے