میری نانی

جولائی 26, 2024

ابو احمد مہراج گنج

نانی کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس کے معنی بتانے کی ضرورت ہو ۔بلکہ یہ ایسا لفظ ہے جب کسی کے کانوں سے ٹکراتا ہے تو آنکھوں کے سامنے ایک تصویر مجسم خلوص ومحبت کی پیکر ہمدردی و غم خواری سے عبارت اپنی ماں سے زیادہ ناز بردار اور میرے وجود پر بار بار نثار ہونے والی نانی کی تصویر ابھر جاتی ہے ۔

نانی اور دادی ہر بچے کی زندگی میں بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ۔ماں باپ سے ڈانٹ ڈپٹ ملنے پر سیدھے دادی کے آغوش شفقت میں پناہ ملتی ہے تو وہیں نانی کی چمکار سے دل برداشتہ بچوں کے دل کی کلیاں کھل جاتی ہیں ۔

مجھے دادی کی شفقت اور انکی بے پناہ محبت کی لذت سے محرومی کا احساس تو رہے گا ہی ۔لیکن نانی کی موجودگی نے دادی کی اس کمی کو کسی حد تک پورا کردیا تھا۔

میری نانی اللہ اس کو عمر خضر عطا فرمائے ہے بھی اسی طرح کی۔ مجھ سے بچپن میں بے انتہا محبت اور شفقت سے پیش آتی تھی جو میرے ماموں اور میری خالہ کے رشک کے لیے کافی تھا ۔وہ بھولی اتنی کہ کوئی بھی پٹی پڑھا دے۔اور سادہ لوح اتنی کی کسی کی بھی بات پر یقین کرلیتی ہے۔اس کی اس سادہ لوحی اور بھولے پن کی سزا اس کو کئی کئی بار جھیلنی بھی پڑتی ہے مگر وہ آج بھی ویسی کی ویسی ہی ہے۔

اس زمانے کی اکثر دادیاں اور نانیاں اس ترقی یافتہ دور میں بھی اپنے بے ضرر وجود اور عدم چالاکی کی پاداش میں گوشہ تنہائی میں شئے مذموم بنی ہوئی ہیں ۔اس کی ایک وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ آج کل پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں کو اب دادی نانی سے کھیلنے اور ان سے قصے کہانی سننے کی فرصت بھی نہیں ہےاور کوئی ضرورت باقی نہیں رہی ہے ۔یہ ساری ضرورت تو موبائل فون کے ذریعے پوری ہوتی جارہی ہے ۔لیکن افسوس یہ ہے کہ موبائل ان کو نہ تو دادی نانی کی سادگی۔معصومیت اور بھولا پن سکھارہا ہے۔اور نہ ہی دادی اور نانی سے ملنے والی محبت وشفقت کی لوریاں اور تھکیاں دے رہا ہے ۔

نانی اور دادی کے اس پاکیزہ وجود کو سب تسلیم کر تے ہیں سوائے ان کی بہووں کے۔اکثر بہووں کو دادی اور نانی کے وجود میں خیر کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا ،سواۓ اس کے کہ وہ ان کے شوہر کی ماں ہیں ۔تو دوسری طرف نانیوں دادیوں کو اپنی بہووں میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی سواے اس کے کہ وہ ان کے بیٹے کی بیوی ہے۔

مگر وہیں دوسری طرف جو دادیاں اور نانیاں تھوڑی ہوشیار چوکنا اور جہان دیگر سے کچھ باخبر ہیں یا باخبر ہونے کی خواہاں ہیں وہ اپنے پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں بلکہ بہوؤں کے لیے بھی ایک سامان تفریح ہوتی ہیں نواسے نواسیاں پوتے پوتیاں اور بہوویں تک اپنی ساس کو حرز جاں بناے رکھتی ہیں اور چالاک دادیاں نانیاں اسی گرویدگی کو اپنے پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے لیے بہتر طریقے سے استعمال کرکے اپنے گھر بار کو مروت ومحبت ،سنجیدگی و متانت سے بھرپور ایک پُرسکون ماحول دینے میں کامیاب رہتی ہیں ۔

مگر اس کے برعکس دادیاں اور نانیاں اگر اپنے عہد کے سانچے میں اس ماڈرن عہد کے پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں۔بہووں کو ڈھالنے کی خواہش رکھتی ہیں تو وہ اپنے پیر پر نہیں بلکہ اپنے وجود پر حملہ آور ہونے کی سعی کررہی ہیں ۔

مگر میری نانی ان سب سے بے نیاز بے پرواہ اپنی دنیا میں گم رہنے کے فن سے خوب واقف ہے ۔ جہان دیگر اور اس کی خوبیوں خامیوں سے نہ تو اس کی کوئی شناسائی ہے اور ہی ان تک رسائی ہے۔بلکہ میری نانی المحصنات الغافلات المؤمنات کی صفت محمودہ سے متصف ایک نانی سے پرنانی بن گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے